Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آنکھ کی پتلی میں سورج سر میں کچھ سودا اگاپانیوں میں سرخ پودے دھوپ میں سایا اگاGhayas Mateen (b. 1939)
  2. اس طرف آگ کا دریا ہے ادھر کھائی ہےہم نے بھی پار اترنے کی قسم کھائی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  3. بارش ہوگی تو بارش میں دونوں مل کر بھیگیں گےریت پہ ایک مسافر کا گھر اور سمندر بھیگیں گےGhayas Mateen (b. 1939)
  4. پاگل سی ہوا ڈھلتی ہوئی شام سمندرایسے ہی کہیں لے نہ ترا نام سمندرGhayas Mateen (b. 1939)
  5. تمہارا رنگ رنگ آسماں جیسا بدلتا ہےکسی کو چاہنے والا کہیں اتنا بدلتا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  6. جزیرے ہوں کہ وہ صحرا ہوں خواب ہونا ہےسمندروں کو کسی دن سراب ہونا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  7. خواب آنکھوں کی گلی چھوڑ کے جانے نکلےہم ادھر نیند کی دیوار گرانے نکلےGhayas Mateen (b. 1939)
  8. دل جلا پھر چراغ جلتے ہیاپنے دکھ بھی ہیں شام جیسے ہیGhayas Mateen (b. 1939)
  9. دھوپ کا احساس جانے کیوں اسے ہوتا نہیںوقت آوارہ ہے ٹھنڈی چھاؤں میں ہوتا نہیںGhayas Mateen (b. 1939)
  10. زمیں کے ساتھ فلک کے سفر میں ہم بھی ہیںقفس نصیب سہی بال و پر میں ہم بھی ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
  11. سورج کو کیا پتہ ہے کدھر دھوپ چاہئےآنگن بڑا ہے اپنے بھی گھر دھوپ چاہئےGhayas Mateen (b. 1939)
  12. شام کا رنگ جو گہرا ہوا آئینے میںاک ستارہ سا چمکنے لگا آئینے میںGhayas Mateen (b. 1939)
  13. لہجے کو پھول لفظ کو جگنو اگر کریںوقت رواں کے ساتھ معانی سفر کریںGhayas Mateen (b. 1939)
  14. نصیبہ جاگ اٹھا اور مقدر بن گیا اپناجہاں دیوار ہے اس کی وہیں گھر بن گیا اپناGhayas Mateen (b. 1939)
  15. وہ چنگاریوں کو ہوا دے گیاسمندر تھا لیکن یہ کیا دے گیاGhayas Mateen (b. 1939)
  16. ہوا بہت تیز چل رہی ہے چراغ جاں پھر بھی جل رہا ہےیہ کون ہے جو ہمارے پیچھے ہوا کے ہم راہ چل رہا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  17. زحمت کون و مکاں کھینچ رہا ہے کوئیتیرگی وسعت افلاک سے مٹ جائے گیGhayas Mateen (b. 1939)
  18. کتاب زیست ہوظلمات ہوGhayas Mateen (b. 1939)
  19. آسماں راحتوں کی جواں سیج تھاروشنی پوچھتی ہے کہ میںGhayas Mateen (b. 1939)
  20. پرندےرات کی شاخوں پہ بیٹھے ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
  21. چھت پہ دیواروں پہ در پرکھڑکیوں میںGhayas Mateen (b. 1939)
  22. لکڑہارےچلو اس شہر سےGhayas Mateen (b. 1939)
  23. میں زندہ ہوںکہ اک آتشداں کے اندرGhayas Mateen (b. 1939)
  24. وہاں بھاؤ اچھا ملا تھاکوئی چار چھ لینتھ کیGhayas Mateen (b. 1939)
  25. وہ بدبو دار زہریلا دھواں ہےجس سے بنتی اور بگڑتی ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
  26. اجالوں کو میں نےیہ کہتے سنا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  27. ادھر آؤذرا اور قریبGhayas Mateen (b. 1939)
  28. جہاں میں ہوںوہاںGhayas Mateen (b. 1939)
  29. چاند اور سورج کےٹکڑے ٹکڑے کر دینا ہوGhayas Mateen (b. 1939)
  30. خون میں تمہارے ہیںکون سے جس میں کمGhayas Mateen (b. 1939)
  31. راکھ کا ڈھیر ہوا جاتا ہے دیرینہ محبت کا الاؤتیرگی چھانے کو ہے سائے یہ منڈلاتے ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
  32. روشنیوں سے گھرےایک بہت بڑے میدان میںGhayas Mateen (b. 1939)
  33. شہر ویراں کے مکینویہ سنوGhayas Mateen (b. 1939)
  34. مری آنکھیںاٹی ہیں گرد سے پھر بھیGhayas Mateen (b. 1939)
  35. میرے اندر تعفن زدہ ایک لاش تھیجسےGhayas Mateen (b. 1939)
  36. نہیں یہ میں نہیں ہوںمیں نہیں ہوںGhayas Mateen (b. 1939)
  37. وہ دیروز کی شامکب لوٹ کر آ سکی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  38. وہ کون تھےسحاب تھے کتاب تھےGhayas Mateen (b. 1939)
  39. وہ لشکراور وہ ہاتھیGhayas Mateen (b. 1939)
  40. ہر پتھر میں چھپی ہوئی اک موت ہے جو سوچ رہی ہےسورج کے آئینے میں جو شکل بھی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
  41. ہواکچھ ایسی چلیGhayas Mateen (b. 1939)
  42. یہ کاغذ کی دیواریںنہ میری پناہ گاہ ہیںGhayas Mateen (b. 1939)