Poetry
- آنکھ کی پتلی میں سورج سر میں کچھ سودا اگاپانیوں میں سرخ پودے دھوپ میں سایا اگاGhayas Mateen (b. 1939)
- اس طرف آگ کا دریا ہے ادھر کھائی ہےہم نے بھی پار اترنے کی قسم کھائی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- بارش ہوگی تو بارش میں دونوں مل کر بھیگیں گےریت پہ ایک مسافر کا گھر اور سمندر بھیگیں گےGhayas Mateen (b. 1939)
- پاگل سی ہوا ڈھلتی ہوئی شام سمندرایسے ہی کہیں لے نہ ترا نام سمندرGhayas Mateen (b. 1939)
- تمہارا رنگ رنگ آسماں جیسا بدلتا ہےکسی کو چاہنے والا کہیں اتنا بدلتا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- جزیرے ہوں کہ وہ صحرا ہوں خواب ہونا ہےسمندروں کو کسی دن سراب ہونا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- خواب آنکھوں کی گلی چھوڑ کے جانے نکلےہم ادھر نیند کی دیوار گرانے نکلےGhayas Mateen (b. 1939)
- دل جلا پھر چراغ جلتے ہیاپنے دکھ بھی ہیں شام جیسے ہیGhayas Mateen (b. 1939)
- دھوپ کا احساس جانے کیوں اسے ہوتا نہیںوقت آوارہ ہے ٹھنڈی چھاؤں میں ہوتا نہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- زمیں کے ساتھ فلک کے سفر میں ہم بھی ہیںقفس نصیب سہی بال و پر میں ہم بھی ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- سورج کو کیا پتہ ہے کدھر دھوپ چاہئےآنگن بڑا ہے اپنے بھی گھر دھوپ چاہئےGhayas Mateen (b. 1939)
- شام کا رنگ جو گہرا ہوا آئینے میںاک ستارہ سا چمکنے لگا آئینے میںGhayas Mateen (b. 1939)
- لہجے کو پھول لفظ کو جگنو اگر کریںوقت رواں کے ساتھ معانی سفر کریںGhayas Mateen (b. 1939)
- نصیبہ جاگ اٹھا اور مقدر بن گیا اپناجہاں دیوار ہے اس کی وہیں گھر بن گیا اپناGhayas Mateen (b. 1939)
- وہ چنگاریوں کو ہوا دے گیاسمندر تھا لیکن یہ کیا دے گیاGhayas Mateen (b. 1939)
- ہوا بہت تیز چل رہی ہے چراغ جاں پھر بھی جل رہا ہےیہ کون ہے جو ہمارے پیچھے ہوا کے ہم راہ چل رہا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- زحمت کون و مکاں کھینچ رہا ہے کوئیتیرگی وسعت افلاک سے مٹ جائے گیGhayas Mateen (b. 1939)
- کتاب زیست ہوظلمات ہوGhayas Mateen (b. 1939)
- آسماں راحتوں کی جواں سیج تھاروشنی پوچھتی ہے کہ میںGhayas Mateen (b. 1939)
- پرندےرات کی شاخوں پہ بیٹھے ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- چھت پہ دیواروں پہ در پرکھڑکیوں میںGhayas Mateen (b. 1939)
- لکڑہارےچلو اس شہر سےGhayas Mateen (b. 1939)
- میں زندہ ہوںکہ اک آتشداں کے اندرGhayas Mateen (b. 1939)
- وہاں بھاؤ اچھا ملا تھاکوئی چار چھ لینتھ کیGhayas Mateen (b. 1939)
- وہ بدبو دار زہریلا دھواں ہےجس سے بنتی اور بگڑتی ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- اجالوں کو میں نےیہ کہتے سنا ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- ادھر آؤذرا اور قریبGhayas Mateen (b. 1939)
- جہاں میں ہوںوہاںGhayas Mateen (b. 1939)
- چاند اور سورج کےٹکڑے ٹکڑے کر دینا ہوGhayas Mateen (b. 1939)
- خون میں تمہارے ہیںکون سے جس میں کمGhayas Mateen (b. 1939)
- راکھ کا ڈھیر ہوا جاتا ہے دیرینہ محبت کا الاؤتیرگی چھانے کو ہے سائے یہ منڈلاتے ہیںGhayas Mateen (b. 1939)
- روشنیوں سے گھرےایک بہت بڑے میدان میںGhayas Mateen (b. 1939)
- شہر ویراں کے مکینویہ سنوGhayas Mateen (b. 1939)
- مری آنکھیںاٹی ہیں گرد سے پھر بھیGhayas Mateen (b. 1939)
- میرے اندر تعفن زدہ ایک لاش تھیجسےGhayas Mateen (b. 1939)
- نہیں یہ میں نہیں ہوںمیں نہیں ہوںGhayas Mateen (b. 1939)
- وہ دیروز کی شامکب لوٹ کر آ سکی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- وہ کون تھےسحاب تھے کتاب تھےGhayas Mateen (b. 1939)
- وہ لشکراور وہ ہاتھیGhayas Mateen (b. 1939)
- ہر پتھر میں چھپی ہوئی اک موت ہے جو سوچ رہی ہےسورج کے آئینے میں جو شکل بھی ہےGhayas Mateen (b. 1939)
- ہواکچھ ایسی چلیGhayas Mateen (b. 1939)
- یہ کاغذ کی دیواریںنہ میری پناہ گاہ ہیںGhayas Mateen (b. 1939)