پرندے
Ghayas Mateen (b. 1939)پرندے
رات کی شاخوں پہ بیٹھے ہیں
پروں میں
اپنی چونچوں کو دبائے
اونگھتے جاتے ہیں
اور یہ سوچتے ہیں
وہ قاصد
جو گیا تھا
صبح کا چہرہ
کہیں سے مانگ کر لانے
ابھی تک لوٹ کر آیا نہیں ہے
وہ قاصد
صبح کے ہم راہ
کب آئے گا
کب اس آسماں کے
زرد رخساروں پہ سرخی دوڑ جائے گی
پرندے
اونگھتے جاتے ہیں
اور یہ سوچتے ہیں
انہیں مژدہ
وہ قاصد
مر چکا ہے
انہیں مژدہ
کہ ان کے پر سلامت ہیں
وہ اتریں
رات کی شاخوں سے اتریں
خلاؤں کے سمندر پر چلیں
اور صبح کو
اپنے پروں سے
باندھ کر لائیں