شام کا رنگ جو گہرا ہوا آئینے میں
Ghayas Mateen (b. 1939)شام کا رنگ جو گہرا ہوا آئینے میں
اک ستارہ سا چمکنے لگا آئینے میں
سب کھلونوں کی طرح ٹوٹ رہے ہیں پل پل
اور یہ منظر مجھے ڈستا ہوا آئینے میں
گردش وقت سنبھلنے نہیں دیتی مجھ کو
سلسلہ ٹوٹتا بنتا رہا آئینے میں
دیکھ کر لہروں کی شوریدہ سری یاد آیا
ایک چہرہ کبھی دیکھا ہوا آئینے میں
اس کی آنکھوں میں اترتے ہوئے محسوس ہوا
اک نئے شہر کا رستہ ملا آئینے میں
آئنہ دیکھ کے کیوں چیختے رہتے ہو متینؔ
کیا کوئی اور ہے بیٹھا ہوا آئینے میں