آسماں راحتوں کی جواں سیج تھا

Ghayas Mateen (b. 1939)

آسماں راحتوں کی جواں سیج تھا

روشنی پوچھتی ہے کہ میں

کیسے اندھا ہوا

میں تو اندھا ہی ٹھہرا مگر

وہ جو بینا ہیں کیوں

سات رنگوں کو بھی

ایک ہی جانتے ہیں

روشنی کل جہاں دھوپ تھی

آج سایہ بنی

کس کے پیروں سے چل کر

یہاں تک چلے آئے تم

رات کے ساتھ مجھ کو نگلنے کی خواہش

کتنی مہنگی پڑی ہے

کوئی سورج تمہارے بدن میں بھی پلنے لگا ہے

یہ زمیں

ایک کانٹوں بھرا تاج کیوں بن گئی ہے