کتاب زیست ہو
Ghayas Mateen (b. 1939)کتاب زیست ہو
ظلمات ہو
کہ روزن ہو
شعاع مہر کی صورت وہیں سے چھنتی ہیں
یہ بات کرتی لکیریں
انہیں لکیروں میں
کہیں دھنک ہے
کہیں چاندنی
کہیں خوشبو
کہیں خیال
کہیں خواب
اور کہیں تعبیر
اداسیوں کی کہر سے پرے
ابھرتی ہے
ہر ایک لفظ کی تصویر
روشنی بن کر
نظر میں سرخ سویرے کی دھیمی آنچ لیے
ہے بات ایسی کہ جیسے شگفتگی گل کی
تو لہجہ ایسا ہے
جیسے کھنکتے جام ہنسیں
کمان ابروئے خوباں کا بانکپن ہے غزل
تو نظم ہے کسی پتھر میں نقش آئینہ
اس آئنہ میں عیاں ہے
سبھی دلوں کا سکوں
سبھی دلوں کی تمنا
سبھی دلوں کا ملال
ہے ماورائے زمان و مکاں
یہ آئینہ
اس آئنہ میں لرزتی
لکیریں بولتی ہیں
کہیں خیال
کہیں خواب
اور کہیں تعبیر