وہ چنگاریوں کو ہوا دے گیا

Ghayas Mateen (b. 1939)

وہ چنگاریوں کو ہوا دے گیا

سمندر تھا لیکن یہ کیا دے گیا

میں جلتے چراغوں کی سانسوں میں ہوں

کوئی جاگنے کی دعا دے گیا

شکاری بڑا شعبدہ‌ باز تھا

پرندوں کو اک آئنہ دے گیا

میں مقطع پہ پہنچا تو وہ رو پڑا

مجھے شاعری کا صلہ دے گیا

بڑی دھوپ تھی گھر کے باہر متینؔ

مگر وہ شجر آسرا دے گیا