دل جلا پھر چراغ جلتے ہی

Ghayas Mateen (b. 1939)

دل جلا پھر چراغ جلتے ہی

اپنے دکھ بھی ہیں شام جیسے ہی

کتنے چہرے اتر گئے دیکھو

دھوپ دیوار سے اترتے ہی

موسموں کا پتہ چلا مجھ کو

رنگ دیوار کا بدلتے ہی

ہم نے دریا میں راستہ پایا

اک ترا نام لے کے چلتے ہی

زندگی کتنی خوب صورت ہے

ہاں مگر سانس کے اکھڑتے ہی

میرؔ کی یاد آ گئی ہم کو

صبح کرتے ہی شام کرتے ہی

ایک زندہ مثال تھی نہ رہی

ہائے اس آدمی کے مرتے ہی

ٹوٹنا اپنے دل کا یاد آیا

آئنہ ٹوٹ کر بکھرتے ہی

تیرا لہجہ متینؔ ایسا ہے

پھول جھڑتے ہیں بات کرتے ہی