Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. یہ حُوریانِ فرنگی، دل و نظر کا حجاببہشتِ مغربیاں، جلوہ ہائے پا بہ رکابAllama Iqbal (1877–1938)
  2. دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کرّاریمِسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دل کی بیداریAllama Iqbal (1877–1938)
  3. خودی کی شوخی و تُندی میں کبر و ناز نہیںجو ناز ہو بھی تو بے لذّتِ نیاز نہیںAllama Iqbal (1877–1938)
  4. میرِ سپاہ ناسزا، لشکریاں شکستہ صفآہ! وہ تیرِ نیم کش جس کا نہ ہو کوئی ہدفAllama Iqbal (1877–1938)
  5. زمِستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزینہ چھُوٹے مجھ سے لندن میں بھی آدابِ سحَرخیزیAllama Iqbal (1877–1938)
  6. یہ دَیرِ کُہن کیا ہے، انبارِ خس و خاشاکمشکل ہے گزر اس میں بے نالۂ آتش ناکAllama Iqbal (1877–1938)
  7. کمالِ تَرک نہیں آب و گِل سے مہجوریکمالِ ترک ہے تسخیرِ خاکی و نوریAllama Iqbal (1877–1938)
  8. عقل گو آستاں سے دُور نہیںاس کی تقدیر میں حضور نہیںAllama Iqbal (1877–1938)
  9. خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیںتُو آبجُو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیںAllama Iqbal (1877–1938)
  10. یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صُبح گاہیکہ خودی کے عارفوں کا ہے مقام پادشاہیAllama Iqbal (1877–1938)
  11. تری نگاہ فرومایہ، ہاتھ ہے کوتاہترا گُنہ کہ نخیلِ بلند کا ہے گناہAllama Iqbal (1877–1938)
  12. خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیںترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیںAllama Iqbal (1877–1938)
  13. نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہےخراج کی جو گدا ہو، وہ قیصری کیا ہے!Allama Iqbal (1877–1938)
  14. نہ تُو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیےجہاں ہے تیرے لیے، تُو نہیں جہاں کے لیےAllama Iqbal (1877–1938)
  15. تُو اے اسیرِ مکاں! لامکاں سے دور نہیںوہ جلوہ‌گاہ ترے خاک‌داں سے دور نہیںAllama Iqbal (1877–1938)
  16. خِرد نے مجھ کو عطا کی نظر حکیمانہسِکھائی عشق نے مجھ کو حدیثِ رِندانہAllama Iqbal (1877–1938)
  17. افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخرکرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخرAllama Iqbal (1877–1938)
  18. ہر شے مسافر، ہر چیز راہیکیا چاند تارے، کیا مرغ و ماہیAllama Iqbal (1877–1938)
  19. ہر چیز ہے محوِ خود نمائیہر ذرّہ شہیدِ کبریائیAllama Iqbal (1877–1938)
  20. اعجاز ہے کسی کا یا گردش زمانہٹوٹا ہے ایشیا میں سحر فرنگیانہAllama Iqbal (1877–1938)
  21. خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےکہ مَیں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہےAllama Iqbal (1877–1938)
  22. جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہیکھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہیAllama Iqbal (1877–1938)
  23. مجھے آہ و فغانِ نیم شب کا پھر پیام آیاتھم اے رہرو کہ شاید پھر کوئی مشکل مقام آیاAllama Iqbal (1877–1938)
  24. نہ ہو طُغیانِ مشتاقی تو مَیں رہتا نہیں باقیکہ میری زندگی کیا ہے، یہی طُغیانِ مشتاقیAllama Iqbal (1877–1938)
  25. فطرت کو خِرد کے رُوبرو کرتسخیرِ مقامِ رنگ و بو کرAllama Iqbal (1877–1938)
  26. یہ پِیرانِ کلیسا و حرم، اے وائے مجبوری!صِلہ ان کی کدوی کاوش کا ہے سینوں کی بے نوریAllama Iqbal (1877–1938)
  27. تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سِحرِ قدیمگزر اس عہد میں ممکن نہیں بے چوبِ کلیمAllama Iqbal (1877–1938)
  28. ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیںAllama Iqbal (1877–1938)
  29. ڈھُونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دواموائے تمنّائے خام، وائے تمنّائے خام!Allama Iqbal (1877–1938)
  30. خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریلاگر ہو عشق سے محکم تو صُورِ اسرافیلAllama Iqbal (1877–1938)
  31. مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے؟خانقاہوں میں کہیں لذّتِ اسرار بھی ہے؟Allama Iqbal (1877–1938)
  32. حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہےعکس اُس کا مرے آئینۂ ادراک میں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
  33. رہا نہ حلقۂ صُوفی میں سوزِ مشتاقیفسانہ ہائے کرامات رہ گئے باقیAllama Iqbal (1877–1938)
  34. ہُوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاکاگرچہ مغربیوں کا جُنوں بھی تھا چالاکAllama Iqbal (1877–1938)
  35. یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہیک رنگی و آزادی اے ہمّتِ مردانہ!Allama Iqbal (1877–1938)
  36. نہ تخت و تاج میں نَے لشکر و سپاہ میں ہےجو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
  37. فِطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاکرکھتی ہے مگر طاقتِ پرواز مِری خاکAllama Iqbal (1877–1938)
  38. کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آبادمری نگاہ نہیں سُوئے کوفہ و بغدادAllama Iqbal (1877–1938)
  39. کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمّازیگُستاخ ہے، کرتا ہے فطرت کی حِنابندیAllama Iqbal (1877–1938)
  40. نے مُہرہ باقی، نے مُہرہ بازیجیتا ہے رومیؔ، ہارا ہے رازیؔAllama Iqbal (1877–1938)
  41. گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ!وائے وہ رہرو کہ ہے منتظر راحولہAllama Iqbal (1877–1938)
  42. مِری نوا سے ہُوئے زندہ عارف و عامیدیا ہے مَیں نے انھیں ذوقِ آتش آشامیAllama Iqbal (1877–1938)
  43. ہر اک مقام سے آگے گزر گیا مہِ نوکمال کس کو میّسر ہُوا ہے بے تگ و دَو!Allama Iqbal (1877–1938)
  44. کھو نہ جا اس سحَر و شام میں اے صاحبِ ہوش!اک جہاں اور بھی ہے جس میں نہ فردا ہے نہ دوشAllama Iqbal (1877–1938)
  45. تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہیآج اُن خانقہوں میں ہے فقط رُوباہیAllama Iqbal (1877–1938)
  46. ہے یاد مجھے نکتۂ سلمانِ خوش آہنگدنیا نہیں مردانِ جفاکش کے لیے تنگAllama Iqbal (1877–1938)
  47. فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہفقر ہے میروں کا مِیر، فقر ہے شاہوں کا شاہAllama Iqbal (1877–1938)
  48. کمالِ جوشِ جُنوں میں رہا مَیں گرمِ طوافخدا کا شُکر، سلامت رہا حرم کا غلافAllama Iqbal (1877–1938)
  49. شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیبمقامِ شوق میں ہیں سب دل و نظر کے رقیبAllama Iqbal (1877–1938)
  50. اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہےشاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری باتAllama Iqbal (1877–1938)