گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ

Allama Iqbal (1877–1938)

گرم فغاں ہے جرس ، اٹھ کہ گیا قافلہ

!وائے وہ رہرو کہ ہے منتظر راحولہ

تیری طبیعت ہے اور ، تیرا زمانہ ہے اور

تیرے موافق نہیں خانقہی سلسلہ

دل ہو غلام خرد یا کہ امام خرد

سالک رہ ، ہوشیار! سخت ہے یہ مرحلہ

اس کی خودی ہے ابھی شام و سحر میں اسیر

گردش دوراں کا ہے جس کی زباں پر گلہ

تیرے نفس سے ہوئی آتش گل تیز تر

مرغ چمن! ہے یہی تیری نوا کا صلہ