Poetry
Poet
Meter
- وقت بوسے کے مرا منہ اس کے لب سے جوں جڑاگرد غم ہوئی دل میں میٹھی جیسے شکر کا پڑاWali Uzlat (1692–1775)
- وہ کیا دن تھے جو قاتل بن دل رنجور رو دیتامرا ہر زخم جوں وہ تیغ ہوتی دور، رو دیتاWali Uzlat (1692–1775)
- ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیںتو گالی دے دعاؤں میں محبت اس کو کہتے ہیںWali Uzlat (1692–1775)
- ہوئے ہم جب سے پیدا اپنے دیوانے ہوئے ہوتےخدا کو ہم پہنچتے خود سے بیگانے ہوئے ہوتےWali Uzlat (1692–1775)
- ہے اس کی زلف سے نت پنجۂ عدو گستاخمرا غبار وہ دامن سے ہے کبھو گستاخWali Uzlat (1692–1775)
- یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہےگل سیر چمن کر گئے اب خار کی باری ہےWali Uzlat (1692–1775)
- درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کوکھا گئے رو رو مرے دیدۂ گریاں مجھ کوWali Uzlat (1692–1775)
- مجھ قبر سے یار کیونکے جاوےہے شمع مزار کیونکے جاوےWali Uzlat (1692–1775)
- میرے اشکوں کی گئی تھی ریل ویرانے پہ کیا گزراخبر نیں حضرت مجنوں کے کاشانے پہ کیا گزراWali Uzlat (1692–1775)
- آب حیات جا کے کسو نے پیا تو کیامانند خضر جگ میں اکیلا جیا تو کیاShah Hatim (1699–1783)
- آج دل بر کے نام کو رٹ رٹرو دیا لا علاج ہو پٹ پٹShah Hatim (1699–1783)
- آگے کیا تم سا جہاں میں کوئی محبوب نہ تھاکیا تمہیں خوب بنے اور کوئی خوب نہ تھاShah Hatim (1699–1783)
- آئی عید و دل میں نہیں کچھ ہوائے عیداے کاش میرے پاس تو آتا بجائے عیدShah Hatim (1699–1783)
- ابر میں یاد یار آوے ہےگریہ بے اختیار آوے ہےShah Hatim (1699–1783)
- اب کی چمن میں گل کا نے نام و نے نشاں ہےفریاد بلبلاں ہے یا شہرۂ خزاں ہےShah Hatim (1699–1783)
- احسان ترا دل مرا کیا یاد کرے گاجو خاک کو اس کی نہ تو برباد کرے گاShah Hatim (1699–1783)
- اس دکھ میں ہائے یار یگانے کدھر گئےسب چھوڑ ہم کو غم میں نہ جانے کدھر گئےShah Hatim (1699–1783)
- اس دور کے اثر کا جو پوچھو بیاں نہیںہے کون سی زمیں کہ جہاں آسماں نہیںShah Hatim (1699–1783)
- اس زمانے میں نہ ہو کیوں کر ہمارا دل اداسدیکھ کر احوال عالم اڑتے جاتے ہیں حواسShah Hatim (1699–1783)
- اس کی قدرت کی دید کرتا ہوںروز نو روز عید کرتا ہوںShah Hatim (1699–1783)
- اس واسطے نکلوں ہوں ترے کوچے سے بچ بچہر ایک مچاتا ہے مجھے دیکھ کے کچ کچShah Hatim (1699–1783)
- اوقات شیخ گو کہ سجود و قیام ہےمیرے کنے تو ایک خدا ہی کا نام ہےShah Hatim (1699–1783)
- ایک تو تری دولت تھا ہی دل یہ سودائیتس اوپر قیامت ہے بے کسی و تنہائیShah Hatim (1699–1783)
- ایک مدت سے طلب گار ہوں کن کا ان کاتشنۂ حسرت دیدار ہوں کن کا ان کاShah Hatim (1699–1783)
- اے دل نہ کر تو فکر پڑے گا بلا کے ہاتھآئینہ ہو کے جا کے لگ اب دل ربا کے ہاتھShah Hatim (1699–1783)
- باغ میں تو کبھو جو ہنستا ہےغنچۂ دل مرا بکستا ہےShah Hatim (1699–1783)
- بندہ اگر جہاں میں بجائے خدا نہیںلیکن نظر کرو تو خدا سے جدا نہیںShah Hatim (1699–1783)
- بے ترے جان نہ تھی جان مری جان کے بیچآن کر پھر کے جلایا تو مجھے آن کے بیچShah Hatim (1699–1783)
- پھر خبر اس فصل میں یارو بہار آنے کی ہےاب بجز زنجیر کیا تدبیر دیوانے کی ہےShah Hatim (1699–1783)
- ترا دل یار اگر مائل کرے ہےتو جان اب تجھ کو صاحب دل کرے ہےShah Hatim (1699–1783)
- تری بھواں کی تیغ جب آئی نظر مجھےکرنا ہوا ضرور میاں ترک سر مجھےShah Hatim (1699–1783)
- تری جو زلف کا آیا خیال آنکھوں میںوہیں کھٹکنے لگا بال بال آنکھوں میںShah Hatim (1699–1783)
- تمہارے عشق میں ہم ننگ و نام بھول گئےجہاں میں کام تھے جتنے تمام بھول گئےShah Hatim (1699–1783)
- توبہ زاہد کی توبہ تلی ہےچلے بیٹھے تو شیخ چلی ہےShah Hatim (1699–1783)
- تو جو کہتا ہے بولتا کیا ہےامر ربی ہے روح مولا ہےShah Hatim (1699–1783)
- تو دیکھ اسے سب جا آنکھوں کے اٹھا پردےمانند سویدا کے دل بیچ اسے گھر دےShah Hatim (1699–1783)
- تو صبح دم نہ نہا بے حجاب دریا میںپڑے گا شور کہ ہے آفتاب دریا میںShah Hatim (1699–1783)
- تھا پاس ابھی کدھر گیا دلیہ خانہ خراب گھر گیا دلShah Hatim (1699–1783)
- جب آپ سے ہی گزر گئے ہمپھر کس سے کہیں کدھر گئے ہمShah Hatim (1699–1783)
- جب سے تمہاری آنکھیں عالم کو بھائیاں ہیںتب سے جہاں میں تم نے دھومیں مچائیاں ہیںShah Hatim (1699–1783)
- جب وہ عالی دماغ ہنستا ہےغنچہ کھلتا ہے باغ ہنستا ہےShah Hatim (1699–1783)
- جس کو دیکھا سو یہاں دشمن جاں ہے اپنادل کو جانے تھے ہم اپنا سو کہاں ہے اپناShah Hatim (1699–1783)
- جس کوں پی کا خیال ہوتا ہےاوس کوں جینا محال ہوتا ہےShah Hatim (1699–1783)
- جس نے آدم کے تئیں جاں بخشاخضر کو چشمۂ حیواں بخشاShah Hatim (1699–1783)
- جلوہ گر فانوس تن میں ہے ہمارا من چراغبے بتی اور تیل یہ ہے روز و شب روشن چراغShah Hatim (1699–1783)
- جنبش دل نہیں بے جا تو کدھر بھولا ہےکوئی لڑکا اسے گہوارہ سمجھ جھولا ہےShah Hatim (1699–1783)
- جو کوئی کہ یار و آشنا ہےرخصت کی مری اسے دعا ہےShah Hatim (1699–1783)
- جو مرے ہم عصر ہم صحبت تھے سو سب مر گئےاپنی اپنی عمر کا پیمانہ ہر یک بھر گئےShah Hatim (1699–1783)
- جو مے خانہ میں جاتا تھا قدم رکھتے جھجھکتا تھاکہ ساغر آنکھ دکھلاتا تھا اور شیشہ بھبھکتا تھاShah Hatim (1699–1783)
- جی ترستا ہے یار کی خاطراوس سیں بوس و کنار کی خاطرShah Hatim (1699–1783)