Poetry
Poet
Meter
- گڑ سیں میٹھا ہے بوسہ تجھ لب کااس جلیبی میں قند و شکر ہےFaez Dehlvi (1690–1738)
- آج دل بے قرار ہے میراکس کے پہلو میں یار ہے میراWali Uzlat (1692–1775)
- ارے الٹے زمانے مجھ پہ کیا سیدھا ستم لایانین میرے تھے پی کا گھر سو روئے ہجر دکھلایاWali Uzlat (1692–1775)
- اسیری بے مزہ لگتی ہے بن صیاد کیا کیجےقفس کے کنج میں تنہا عبث فریاد کیا کیجےWali Uzlat (1692–1775)
- اگر میں معجزے کو خاکساری کے عیاں کرتابگولے سا بنا اور ہی زمیں و آسماں کرتاWali Uzlat (1692–1775)
- اے ناصح چشم تر سے مت کر آنسو پاک رہنے دےارے بے درد رونے میں مجھے بے باک رہنے دےWali Uzlat (1692–1775)
- اے یار مجھ افسردۂ ہجراں کو پہنچ تواے رشک مسیحا تن بے جاں کو پہنچ توWali Uzlat (1692–1775)
- بندے ہیں تیری چھب کے مہ سے جمال والےسب گل سے گال والے سنبل سے بال والےWali Uzlat (1692–1775)
- بہار آدھی گزر گئی ہائے ہم قیدی ہیں زنداں کےگئے کچھ اور کچھ جاتے ہیں دن چاک گریباں کےWali Uzlat (1692–1775)
- بہار آئی بتنگ آیا دل وحشت پناہ اپناکروں کیا ہے یہی چاک گریباں دستگاہ اپناWali Uzlat (1692–1775)
- بہار آئی جنوں لے گا ہمارا امتحاں دیکھیںنمک دے گا دل زخمی کو شور بلبلاں دیکھیںWali Uzlat (1692–1775)
- پھر آئی فصل گل اے یار دیکھیے کیا ہوجنوں کا دل میں چبھا خار دیکھیے کیا ہوWali Uzlat (1692–1775)
- پھونک دے ہے منہ ترا ہر صاف دل کے تن میں آگسامنے خورشید کے لگتی ہے جو درپن میں آگWali Uzlat (1692–1775)
- تجھ سے بوسہ میں نہ مانگا کبھو ڈرتے ڈرتےدیکھیے آب بقا پاؤں گا مرتے مرتےWali Uzlat (1692–1775)
- تجھ قبا پر گلاب کا بوٹادل بلبل گویا ابھی ٹوٹاWali Uzlat (1692–1775)
- ترے لب بن ہے دل میں شعلہ زن مل جس کو کہتے ہیںنشے کی موت کی ہچکی ہے قلقل جس کو کہتے ہیںWali Uzlat (1692–1775)
- تیرہ بختوں کو کرے ہے نالۂ غمگیں خرابجس طرح ہو جا صبا سے کاکل مشکیں خرابWali Uzlat (1692–1775)
- جاتی رہیں کدھر وہ محبت کی بانیاںاک آشنا رہیں تری باتیں بگانیاںWali Uzlat (1692–1775)
- جب تن نہ رہا میرا ہوں واصل جانانہدیوار کے گرنے سے ہم سایا ہو ہم خانہWali Uzlat (1692–1775)
- جب سے دلبر نے آنکھ پھیرا ہےمجھ کو دوران سر نے گھیرا ہےWali Uzlat (1692–1775)
- جپے ہے ورد سا تجھ سے صنم کے نام کو شیخنماز توڑ اٹھے تیرے رام رام کو شیخWali Uzlat (1692–1775)
- جن دنوں ہم اس شب حظ کے سیہ کاروں میں تھےاس ایاغ چشم کے پیوستہ مے خواروں میں تھےWali Uzlat (1692–1775)
- جنوں آور شب مہتاب تھی پی کی تمنا میںکہ بہہ کر ریل میں اشکوں کے ہم تھے سیر دریا میںWali Uzlat (1692–1775)
- جو عاشق ہو اسے صحرا میں چل جانے سے کیا نسبتجز اپنی دھول اڑانا اور ویرانے سے کیا نسبتWali Uzlat (1692–1775)
- جوں گل ازبسکہ جنوں ہے مرا سامان کے ساتچاک کرتا ہوں میں سینے کو گریبان کے ساتWali Uzlat (1692–1775)
- خدا شاہد بتو دو جگ سے یہ سودا ہے نروالامیں دو بادام چشم لطف پر دل بیچنے والاWali Uzlat (1692–1775)
- خدا کسی کوں کسی ساتھ آشنا نہ کرےوگرنہ یار کوں عاشق سوں بے وفا نہ کرےWali Uzlat (1692–1775)
- خدا ہی پہنچے فریادوں کو ہم سے بے نصیبوں کےہمارے دل کباب اور تو پئے پیالے رقیبوں کےWali Uzlat (1692–1775)
- خط نے آ کر کی ہے شاید رحم فرمانے کی عرضتب تو اب سنتا ہے ہنس کر مجھ سے دیوانے کی عرضWali Uzlat (1692–1775)
- خنک جوشی نہ کرتے جوں صبا گر یہ بتاں ہم سےتو مثل غنچۂ گل دل نہ جاتا رائیگاں ہم سےWali Uzlat (1692–1775)
- دلوں میں رہئے جہاں کے ولے خدا کے ڈھبکہ ہو جہاں پہ نہ ظاہر یہ ہے مرا مذہبWali Uzlat (1692–1775)
- شتاب کھو گئی پیری جوانی دو دن کیچھپی سحر میں شب کامرانی دو دن کیWali Uzlat (1692–1775)
- عبث توڑا مرا دل ناز سکھلانے کے کام آتایہ آئینہ تھا اس خودبیں کو اترانے کے کام آتاWali Uzlat (1692–1775)
- غنچۂ دل مرا کھا کر گل خنداں میرابوئے گل سا ہے اڑاتا مجھے جاناں میراWali Uzlat (1692–1775)
- غیر آہ سرد نہیں داغوں کے جانے کا علاججز صبا کیا ہے چراغوں کے بجھانے کا علاجWali Uzlat (1692–1775)
- فصل گل میں نئیں بگھولے اٹھتے ویرانوں کے بیچخاک دیوانوں کی وجدی ہے بیابانوں کے بیچWali Uzlat (1692–1775)
- کر رہے ہیں مجھ سے تجھ بن دیدۂ نمناک جنگداغ دل جوں شمع کرتے ہیں جدا بے باک جنگWali Uzlat (1692–1775)
- کفر مومن ہے نہ کرنا دلبراں سے اختلاطکر لیا کعبے نے بھی کے دن بتاں سے اختلاطWali Uzlat (1692–1775)
- گرد باد افسوس کا جنگل سے ہے پیدا ہنوزہات ملتا ماتم مجنوں سے ہے صحرا ہنوزWali Uzlat (1692–1775)
- گر میرے لہو رونے کا باران بنے گاکوچہ ترا رشک چمنستان بنے گاWali Uzlat (1692–1775)
- گل رہے نہیں نام کو سرکش ہیں خاراں العیاذکھٹکے ہے آنکھوں میں یہ سونا گلستاں العیاذWali Uzlat (1692–1775)
- گھر یار کا ہم سے دور پڑا گئی ہم سے راحت ایک طرفدل ایک طرف آہ ایک طرف ملنے کی حسرت ایک طرفWali Uzlat (1692–1775)
- ماہ کامل ہو مقابل یار کے رو سے چے خوشخم ہو دم مارے ہلال اس تیغ ابرو سے چے خوشWali Uzlat (1692–1775)
- مرے نزع کو مت اس سے کہو ہوا سو ہواکہ دل دہندہ جیو یا مرو ہوا سو ہواWali Uzlat (1692–1775)
- مغز بہار اس برس اس بن بچا نہ تھاچین جبیں بن ایک گل اب کی ہنسا نہ تھاWali Uzlat (1692–1775)
- موسم گل میں ہیں دیوانوں کے بازار کئیشور بلبل کئی زنجیر کی جھنکار کئیWali Uzlat (1692–1775)
- میں وہ مجنوں ہوں کہ آباد نہ اجڑا سمجھوںمشت خاک اپنی اڑا کر اسے صحرا سمجھوںWali Uzlat (1692–1775)
- ننگ نہیں مجھ کو تڑپنے سے سنبھل جانے کاڈر ہے اس خنجر مژگاں کے پھسل جانے کاWali Uzlat (1692–1775)
- نہ شوخیوں سے کرے ہیں وہ چشم گلگوں رقصکہ ان کے پینے سے کرتا ہے واں مرا خوں رقصWali Uzlat (1692–1775)
- نین میں خوں بھر آیا دل میں خار غم چھپا شایدہوا اس دم وہ تیغ ابرو کسی سے آشنا شایدWali Uzlat (1692–1775)