پھول ہے دل انگارہ کیسے ہو سکتا ہے
Nadiya ambar lodhiپھول ہے دل انگارہ کیسے ہو سکتا ہے
میٹھا پانی کھارا کیسے ہو سکتا ہے
کسی کو دل پہ اجارہ کیسے ہو سکتا ہے
من ہے مٹی گارا کیسے ہو سکتا ہے
تارے نکلیں خوشبو مہکے رات رہے
ہر پل اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے
یہ سارے منظر تو اس کے ساتھ آئے
اس سے میرا کنارا کیسے ہو سکتا ہے
کیسے کوئی تنہا جی سکتا ہے عنبرؔ
ہجر کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے