پھول ہے دل انگارہ کیسے ہو سکتا ہے

Nadiya ambar lodhi

پھول ہے دل انگارہ کیسے ہو سکتا ہے

میٹھا پانی کھارا کیسے ہو سکتا ہے

کسی کو دل پہ اجارہ کیسے ہو سکتا ہے

من ہے مٹی گارا کیسے ہو سکتا ہے

تارے نکلیں خوشبو مہکے رات رہے

ہر پل اتنا پیارا کیسے ہو سکتا ہے

یہ سارے منظر تو اس کے ساتھ آئے

اس سے میرا کنارا کیسے ہو سکتا ہے

کیسے کوئی تنہا جی سکتا ہے عنبرؔ

ہجر کسی کو پیارا کیسے ہو سکتا ہے