تم ٹھہرو ذرا
Nadiya ambar lodhiتم ٹھہرو ذرا
میں آتی ہوں
سورج سے نور کی کرنیں لے کر
کسی معصوم طفل کے لبوں سے ہنسی لے کر
کسی خوشبو بھرے جنگل سے
تتلیاں پکڑ کر لاتی ہوں
تم ٹھہرو
میں آتی ہوں
شام کے ڈھلتے منظر نامے میں
چند جگنو پکڑنے
میں تو ہمیشہ تنہا ہی جاتی ہوں
رات آئے تو مت ڈرنا
ستاروں سے رستے پوچھ کر
تم کو بتاتی ہوں
خواب بھری ان آنکھوں کے واسطے
نیند بھی لاتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں
تم ٹھہرو میں آتی ہوں