وہ گھر تنکوں سے بنوایا گیا ہے

Nadiya ambar lodhi

وہ گھر تنکوں سے بنوایا گیا ہے

وہاں ہر خواب دفنایا گیا ہے

مری الفت کو کیا سمجھے گا کوئی

سبق نفرت کا دہرایا گیا ہے

مرے اندر کا چہرہ مختلف ہے

بدن پہ اور کچھ پایا گیا ہے

ہوئی ہے زندگی افتاد ایسے

ہوس میں ہر مزا پایا گیا ہے

کہی ایسی ہے عنبرؔ اس کی ہر بات

شکستہ دل کو تڑپایا گیا ہے