کس کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے
Nadiya ambar lodhiکس کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے
دور تک خواہش اڑتی جاتی ہے
دل وہ میرا عجب بہانوں سے
توڑتی ہے کبھی بناتی ہے
جوں ہی ہوتی ہوں گم کہانی میں
تری تصویر ڈھونڈ لاتی ہے
دس محرم کو پیاس کربل کی
مجھ کو ہر بار ہی رلاتی ہے
اپنی زر خیزیاں بڑھانے کو
گیلی مٹی مجھے بلاتی ہے
عشق عنبرؔ وہ بے قراری ہے
لگتی ہے اور بڑھتی جاتی ہے