کپڑوں کی الماری -نہیں

Nadiya ambar lodhi

کپڑوں کی الماری -نہیں

وہاں سے تو بہو بیگم کے ہتھے چڑھ سکتا ہے - کہاں رکھوں ؟ کیا کروں!

جی بیٹا “ میں ٹھیک ہوں “-اس نے جواب دیا -

بہو خاموشی سے ٹرے اٹھا کر چل دی - وہ بستر پر آکر لیٹ گئی -

اسے اپنا پچپن یاد آنے لگا - اپنا لڑکپن اور پھر شادی پھر بڑ ھاپا-

جوانی - مری جوانی - کہاں گئی - اس نے خود سے سوال کیا -

کیا میں کبھی جوان نہیں تھی -

سوچتے سوچتے اس کی آنکھ لگ گئی - معدوم چہرے خواب میں واضح ہونے لگے -

اسے اپنی بڑی بہن دکھائی دی

آپی ۔ آپی ۔ آپی ۔ آپی

وہ پکارنے لگی -بہن کے کان پر بھی جوں تک نہ رینگی-

اوہ وہ تو خواب دیکھ رہی تھی

لباس خریدلوں -مگر بوڑھے وجود پر ہر لباس بدنما ہی لگے گا

مہنگی گاڑی خرید لوں -اب چلانے کی ہمت کہاں -

کب وہ بڑے ہوئے اور اس کے حصے کی ماں باپ کی شفقت کھا گئے

اس کی نانی کی آواز اس کے کانوں میں گونجی -

جن کے لیے دعائیں کیں انہوں نے اسے والدین کی دعاؤں سے ہی نکال دیا -