ہم کو آغاز سفر مارتا ہے

Nadiya ambar lodhi

ہم کو آغاز سفر مارتا ہے

مارتا کوئی نہیں ڈر مارتا ہے

زندگی ہے مری مشکل میں پڑی

عشق ہے کہ بے خبر مارتا ہے

تری مجھ سے نہیں قربت نہ سہی

مجھ کو تو حسن نظر مارتا ہے

زندگی اس کی ہے محتاج مگر

دے بھی سکتا ہے مگر مارتا ہے

اک ہنسی گونجی تھی گھر میں میرے

مجھ کو یادوں کا اثر مارتا ہے