زمیں لپیٹتا ہے آسماں سمیٹتا ہے

Nadiya ambar lodhi

زمیں لپیٹتا ہے آسماں سمیٹتا ہے

کہاں کی بات کو یہ دل کہاں سمیٹتا ہے

حسین رفعتیں تقسیم کرتا ہے اب بھی

یزید آج بھی رسوائیاں سمیٹتا ہے

وہیں پہ گردشیں رک سکتی ہیں زمانے کی

وہ جست بھرتا ہے اور پر جہاں سمیٹتا ہے

اسے بتانا کہ تم جب کہیں بھی ٹوٹتے ہو

تمہاری کرچیاں کوئی یہاں سمیٹتا ہے

کسی میں نادیہؔ جز عشق اتنا ظرف کہاں

ہے کون بکھرے دلوں کو جو یاں سمیٹتا ہے