مجھ میں سوئے ہوئے ماہتاب سے کم واقف ہے
Nadiya ambar lodhiمجھ میں سوئے ہوئے ماہتاب سے کم واقف ہے
تو مری آنکھ کے تالاب سے کم واقف ہے
بغض اعدا خوۓ احباب سے کم واقف ہے
جو مرے حلقۂ ارباب سے کم واقف ہے
سطوت قصر شہی دھوکے میں رکھتا ہے کہ جو
عظمت گنبد و حراب سے کم واقف ہے
عشق کی چاہیے تعلیم ابھی اور اسے
جو محبت ادب آداب سے کم واقف ہے
زیست کرنے کو بہت چشم فسوں کار مجھے
وہ مرے عشق کے زرتاب سے کم واقف ہے
معنوی طور پر اس پہ میں مکمل نا کھلی
وہ مری ذات کے اعراب سے کم واقف ہے
تجھ پہ میں کھولوں گی اک دن سبھی اوراق جمال
تو ابھی حسن کے ابواب سے کم واقف ہے
کیا بنے گا جو نا ٹل پائی بلاۓ فرقت
ہجر تو وصل کے اسباب سے کم واقف ہے
ایک ہی شخص کا کرتی ہے ادب دھڑکن بھی
دل تو دنیا ترے آداب سے کم واقف ہے
اتنا پوشیدہ اسے رکھا ہے عنبرؔ سب سے
آنکھ اپنی بھی مرے خواب سے کم واقف ہے