Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. پھر الجھتے ہیں وہ گیسو کی طرحپھر کجی پر ہیں وہ ابرو کی طرحسخی لکھنوی
  2. تم اگر دو نہ پیرہن اپناچرخ سے مانگ لوں کفن اپناسخی لکھنوی
  3. جی جائے مگر نہ وہ پری جائےیا رب نہ ہماری دل لگی جائےسخی لکھنوی
  4. چشم مے گوں وہاں شراب لذیذدل سوزاں یہاں کباب لذیذسخی لکھنوی
  5. دل اسے دے دیا سخیؔ ہی تو ہےمرحبا پرورش علی ہی تو ہےسخی لکھنوی
  6. دل ہی میرا فقط ہے مطلب کایا جگر بھی ہے آپ کے ڈھب کاسخی لکھنوی
  7. دم یار تا نزع بھر لیجئےسخیؔ زندگی تک تو مر لیجئےسخی لکھنوی
  8. دولہن بھی اگر بن کے آئے گی راتہمیں بے تمہارے نہ بھائے گی راتسخی لکھنوی
  9. رخ پر ہے ملال آج کیسادل بر ہے ملال آج کیساسخی لکھنوی
  10. رخ روشن پہ صفا لوٹ گئیزلف پر کالی بلا لوٹ گئیسخی لکھنوی
  11. رخ روشن دکھائیے صاحبشمع کو کچھ جلائیے صاحبسخی لکھنوی
  12. زلف شب رنگ جو بنائی ہےان دنوں شانے کی بن آئی ہےسخی لکھنوی
  13. سخیؔ سے چھوٹ کر جائیں گے گھر آپاجی کچھ خیر بھی ہے ہیں کدھر آپسخی لکھنوی
  14. عشق کرنے میں دل بھی کیا ہے شوخسیکڑوں میں سے اک چنا ہے شوخسخی لکھنوی
  15. عشق ہے یار کا خدا حافظامر دشوار کا خدا حافظسخی لکھنوی
  16. قاصد ترے بار بار آئےایک ہفتہ میں تین چار آئےسخی لکھنوی
  17. قبر میں اب کسی کا دھیان نہیںسچ ہے جب جی نہیں جہان نہیںسخی لکھنوی
  18. گفتگو ہو دبی زبان بہتہیں لگائے رقیب کان بہتسخی لکھنوی
  19. گھر میں ساقیٔ مست کے چل کےآج ساغر شراب کا چھلکےسخی لکھنوی
  20. ماہ نو پردۂ سحاب میں ہےیا کہ ابرو کوئی نقاب میں ہےسخی لکھنوی
  21. منکر بت ہے یہ جاہل تو نہیںگھر سے واعظ کہیں فاضل تو نہیںسخی لکھنوی
  22. ناخوش جو ہو گل بدن کسی کاکیا بھائے اسے سخن کسی کاسخی لکھنوی
  23. نسبت وہی ماہ آسماں سےلائیں تشبیہ رخ کہاں سےسخی لکھنوی
  24. نہ بچپن میں کہو ہم کو کڑی باتنہ کھلواؤ کہ چھوٹا منہ بڑی باتسخی لکھنوی
  25. ہم پہ جور و ستم کے کیا معنیترک رحم و کرم کے کیا معنیسخی لکھنوی
  26. ہے چمن میں رحم گلچیں کو نہ کچھ صیاد کواب خدا ہی شاد رکھے بلبل ناشاد کوسخی لکھنوی
  27. یوں پریشاں کبھی ہم بھی تو نہ تھےایسے اس زلف میں خم بھی تو نہ تھےسخی لکھنوی
  28. یہ تو معلوم کہ پھر آئیے گابیٹھیے آج کہاں جائیے گاسخی لکھنوی
  29. آغاز ہوا ہے الفت کا اب دیکھیے کیا کیا ہونا ہےیا ساری عمر کی راحت ہے یا ساری عمر کا رونا ہےافسر میرٹھی
  30. اب دل میں تیرے تیر کا پیکاں نہیں رہاکیونکر جیوں کہ زیست کا ساماں نہیں رہاافسر میرٹھی
  31. اثر دیکھا دعا جب رات بھر کیضیا کچھ کچھ ہے تاروں میں سحر کیافسر میرٹھی
  32. مچھر اور مچھرانیاںافسر میرٹھی
  33. جن کو ہر حالت میں خوش اور شادماں پاتا ہوں میںان کے گلشن میں بہار بے خزاں پاتا ہوں میںافسر میرٹھی
  34. جو ملتے وہ تو اتنا پوچھتا میںکہ تم ہو بے وفا یا بے وفا میںافسر میرٹھی
  35. رونقوں پر ہیں بہاریں ترے دیوانوں سےپھول ہنستے ہوئے نکلے ہیں نہاں خانوں سےافسر میرٹھی
  36. عکس ہے بے تابیوں کا دل کی ارمانوں میں کیوںبے زباں شامل ہوئے جاتے ہیں مہمانوں میں کیوںافسر میرٹھی
  37. مانا وہ چھپنے والا ہر دل میں چھپ جائے گالیکن ڈھونڈھنے والا بھی ڈھونڈے گا اور پائے گاافسر میرٹھی
  38. گرمی کی چھٹیاںافسر میرٹھی
  39. یاس ہے حسرت ہے غم ہے اور شب دیجور ہےاتنے ساتھی ہیں مگر تنہا دل رنجور ہےافسر میرٹھی
  40. یہ ہستئ دل اس پہ یہ طوفان تمنااللہ رے اے جوش فراوان تمناافسر میرٹھی
  41. موسم برسات کی صبحافسر میرٹھی
  42. بہار کے دنافسر میرٹھی
  43. وقت کی ڈبیاافسر میرٹھی
  44. اماں باجی کہتی ہیںچاند میں پریاں رہتی ہیںافسر میرٹھی
  45. دنیا میں جنتافسر میرٹھی
  46. وطن کا راگ (افسر میرٹھی ,I)افسر میرٹھی
  47. پریشانی ہے جی گھبرا رہا ہےکوئی دھیمے سروں میں گا رہا ہےافسر میرٹھی
  48. اے خدا اے خداافسر میرٹھی
  49. جیسا میرا دیسافسر میرٹھی
  50. تارا سا لہراؤںکنکوا بن جاؤںافسر میرٹھی