رخ روشن پہ صفا لوٹ گئی

سخی لکھنوی

رخ روشن پہ صفا لوٹ گئی

زلف پر کالی بلا لوٹ گئی

سن کے گلشن میں مرے نالہ و آہ

بلبل نغمہ سرا لوٹ گئی

اس بت مست پہ مے خانہ میں

دختر رز بخدا لوٹ گئی

ہم نہ مرتے اس ادا پر لیکن

پاؤں پر آ کے قضا لوٹ گئی

تنگ ہوں اپنی طبیعت سے میں

جو حسین اس کو ملا لوٹ گئی

اے سخیؔ خوب غزل تو نے کہی

سن کے طبع شعرا لوٹ گئی