تجھ قبا پر گلاب کا بوٹا

Wali Uzlat (1692–1775)

تجھ قبا پر گلاب کا بوٹا

دل بلبل گویا ابھی ٹوٹا

سچ کہوں عہد ہے ترا جھوٹا

تو سلامت رہے یہ دل ٹوٹا

خط نے زلفوں کا قتل عام کیا

فوج نادر نے ہند کو لوٹا

دل ہوا بوئے گل سا صحرائی

جب وہ پنجے سے غنچے کے چھوٹا