Poetry
Poet
Meter
- ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیےہم کیا کہیں حال زار اپنا لکھیےسید یوسف علی خاں ناظم
- ہر چند لطف و مہربانی پیش آئےہرگز کوئی اس شوخ کو ساقی نہ بنائےسید یوسف علی خاں ناظم
- ہو ہند کا مدح خواں برس میں دو بارہے عشرت رائیگاں برس میں دو بارسید یوسف علی خاں ناظم
- آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔاس حکم کو ہم سنیں ملک سے ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
- الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شرابکہتے ہیں ہوا چاک کشاکش میں نقابسید یوسف علی خاں ناظم
- پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نےمشہور کیا سعیٔ نظر کو میں نےسید یوسف علی خاں ناظم
- ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیںپر عشق کی تاثیر بھی بے کار نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- عاشق جو ہوا ہے تو کسے پر ناگاہہے میری طرح سے حال تیرا بھی تباہسید یوسف علی خاں ناظم
- کیا بات ہے کارساز تیری میں کونکیا شان ہے بے نیاز تیری میں کونسید یوسف علی خاں ناظم
- گر عقل و شعور کی رسائی ہوتےواعظ کی سمجھ میں بات آئی ہوتیسید یوسف علی خاں ناظم
- گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیحایسا ہے کچھ اتحاد باطل ہے صریحسید یوسف علی خاں ناظم
- گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقیہے اس سے ہمیں ایک حکایت باقیسید یوسف علی خاں ناظم
- گو کچھ بھی وہ منہ سی نہیں فرماتے ہیںشیریں سخنی کا ہم مزا پاتے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
- ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخساردین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبارسید یوسف علی خاں ناظم
- وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگاپیدا بھی ہوا تو تو ہی کہہ کیا ہوگاسید یوسف علی خاں ناظم
- یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیففاقوں سے ہوئے ہیں آدمی زار نحیفسید یوسف علی خاں ناظم
- یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔعاصی و گناہ گار یعنی ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
- رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیںاشکوں کی یہ کثرت ہے کہ تنگ آ گئیں آنکھیںسید یوسف علی خاں ناظم
- آنا ہے تو آ جاؤ یک آن مرا صاحباک آن کے ہیں ہم بھی مہمان مرا صاحبWaliullah Muhib
- ادھر وہ بے مروت بے وفا بے رحم قاتل ہےادھر بے صبر و بے تسکین و بے طاقت مرا دل ہےWaliullah Muhib
- اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائیشیشے میں عجب آن سے جھمکے تھی خدائیWaliullah Muhib
- اشک باری کا مری آنکھوں نے یہ باندھا ہے جھاڑڈوبتے دکھلائی دیں ہیں تا کمر سارے پہاڑWaliullah Muhib
- اے دل آتا ہے چمن میں وہ شرابی تو پہنچلے کے پیالہ گل کا غنچہ کی گلابی تو پہنچWaliullah Muhib
- اے ہمدماں بھلاؤ نہ تم یاد رفتگاںواماندگاں کو ہے یہی ارشاد رفتگاںWaliullah Muhib
- اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑبس سلسلہ جنباں نہ ہو دیوانے کو مت چھیڑWaliullah Muhib
- بلبل بجائے اپنے تجھے ہم نوا سے بحثواشد میں گل کی محض غلط ہے صبا سے بحثWaliullah Muhib
- بلبل وہ گل ہے خواب میں تو گا کے مت جگایا چٹکیوں کی غنچوں سے بجوا کے گت جگاWaliullah Muhib
- بہ تسخیر بتاں تسبیح کیوں زاہد پھراتے ہیںیہ لوہے کے چنے واللہ عاشق ہی چباتے ہیںWaliullah Muhib
- پہچانے تو ہر دم وہی ہر آن وہی ہےجاناں وہی اے جان وہی جان وہی ہےWaliullah Muhib
- پہلے صف عشاق میں میرا ہی لہو چاٹشمشیر نگہ تیری نے کیا کیا نہ کیا کاٹWaliullah Muhib
- تروار کھینچ ہم کو دکھاتے ہو جب نہ تبکیا مر رہے جواں کو ستاتے ہو جب نہ تبWaliullah Muhib
- تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑاے ہمدم من اس کے کہیں اور لگی لڑWaliullah Muhib
- جسے گرم اختلاطی کی لگا دے دل میں تو آتشپھر اس کے سنگ تربت سے نہیں بجھتی کبھو آتشWaliullah Muhib
- جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیںاے طبیب ان کی بھی دنیا میں دوا ہے کہ نہیںWaliullah Muhib
- جی چاہے کعبے جاؤ جی چاہے بت کو پوجویہ سن رکھو محبؔ تم عاشق کبھو نہ ہوجوWaliullah Muhib
- خانۂ دل کا جو طوائف ہےقصد بیت الحرم سے خائف ہےWaliullah Muhib
- دلا یہ مے کدۂ عشق ہے شراب تو پیشراب اگر نہیں خون دل خراب تو پیWaliullah Muhib
- دل خلقت خدا کو صنما جلا نہ چنداںکہ فلک کے پار پہنچے تف آہ درد منداںWaliullah Muhib
- دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیںتجھ بن تو اپنی زیست ہی دشوار ہے ہمیںWaliullah Muhib
- دیکھا جو کچھ جہاں میں کوئی دم یہ سب نہیںٹک آنکھ موندتے ہی تم اور ہم یہ سب نہیںWaliullah Muhib
- دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہےہے یقیں کچھ گمان میں کچھ ہےWaliullah Muhib
- رائیگاں اوقات کھو کر حیف کھانا ہے عبثخوب رویوں سے جہاں کے دل لگانا ہے عبثWaliullah Muhib
- ساتھ غیروں کے ہے سدا غٹ پٹاک ہمیں سے رکھے ہے دل میں کپٹWaliullah Muhib
- شب فراق نہ کاٹے کٹے ہے کیا کیجےنہ صبح ہوئے ہے نہ پو پھٹے ہے کیا کیجےWaliullah Muhib
- شب نہ یہ سردی سے یخ بستہ زمیں ہر طرف ہےمہ پکارے ہے فلک پروردگی تو برف ہےWaliullah Muhib
- شورش سے چشم تر کی زبس غرق آب ہوںدن رات بحر غم میں برنگ حباب ہوںWaliullah Muhib
- صنم نے جب لب گوہر فشان کھول دیئےصدف کے موج تبسم نے کان کھول دیئےWaliullah Muhib
- کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطرتسبیح توڑ باندھا زنار تیری خاطرWaliullah Muhib
- کیا باغ جہاں میں نام ان کا سرو کہہ کہہ کرکئی آہیں جو نکلی تھیں مرے سینے سے رہ رہ کرWaliullah Muhib
- لالہ رو تم غیر کے پالے پڑےدیکھنے کے ہیں ہمیں لالے پڑےWaliullah Muhib