Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. ناظمؔ اسے خط میں کہتے ہو کیا لکھیےہم کیا کہیں حال زار اپنا لکھیےسید یوسف علی خاں ناظم
  2. ہر چند لطف و مہربانی پیش آئےہرگز کوئی اس شوخ کو ساقی نہ بنائےسید یوسف علی خاں ناظم
  3. ہو ہند کا مدح خواں برس میں دو بارہے عشرت رائیگاں برس میں دو بارسید یوسف علی خاں ناظم
  4. آ جائے اگر حکم فلک سے ناظمؔاس حکم کو ہم سنیں ملک سے ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
  5. الجھے جو رقیب سے وہ کل پی کے شرابکہتے ہیں ہوا چاک کشاکش میں نقابسید یوسف علی خاں ناظم
  6. پھیلا کے تصور کے اثر کو میں نےمشہور کیا سعیٔ نظر کو میں نےسید یوسف علی خاں ناظم
  7. ظاہر میں اگرچہ یار غم خوار نہیںپر عشق کی تاثیر بھی بے کار نہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  8. عاشق جو ہوا ہے تو کسے پر ناگاہہے میری طرح سے حال تیرا بھی تباہسید یوسف علی خاں ناظم
  9. کیا بات ہے کارساز تیری میں کونکیا شان ہے بے نیاز تیری میں کونسید یوسف علی خاں ناظم
  10. گر عقل و شعور کی رسائی ہوتےواعظ کی سمجھ میں بات آئی ہوتیسید یوسف علی خاں ناظم
  11. گر کہے حلول ہے وہ اک امر قبیحایسا ہے کچھ اتحاد باطل ہے صریحسید یوسف علی خاں ناظم
  12. گو اس کی نہیں لطف و عنایت باقیہے اس سے ہمیں ایک حکایت باقیسید یوسف علی خاں ناظم
  13. گو کچھ بھی وہ منہ سی نہیں فرماتے ہیںشیریں سخنی کا ہم مزا پاتے ہیںسید یوسف علی خاں ناظم
  14. ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخساردین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبارسید یوسف علی خاں ناظم
  15. وہ چشمہ دلا کہاں سے پیدا ہوگاپیدا بھی ہوا تو تو ہی کہہ کیا ہوگاسید یوسف علی خاں ناظم
  16. یہاں کال سے ہے طرح طرح کی تکلیففاقوں سے ہوئے ہیں آدمی زار نحیفسید یوسف علی خاں ناظم
  17. یہ بندۂ خاکسار یعنی ناظمؔعاصی و گناہ گار یعنی ناظمؔسید یوسف علی خاں ناظم
  18. رونے کی یہ شدت ہے کہ گھبرا گئیں آنکھیںاشکوں کی یہ کثرت ہے کہ تنگ آ گئیں آنکھیںسید یوسف علی خاں ناظم
  19. آنا ہے تو آ جاؤ یک آن مرا صاحباک آن کے ہیں ہم بھی مہمان مرا صاحبWaliullah Muhib
  20. ادھر وہ بے مروت بے وفا بے رحم قاتل ہےادھر بے صبر و بے تسکین و بے طاقت مرا دل ہےWaliullah Muhib
  21. اس بت نے گلابی جو اٹھا منہ سے لگائیشیشے میں عجب آن سے جھمکے تھی خدائیWaliullah Muhib
  22. اشک باری کا مری آنکھوں نے یہ باندھا ہے جھاڑڈوبتے دکھلائی دیں ہیں تا کمر سارے پہاڑWaliullah Muhib
  23. اے دل آتا ہے چمن میں وہ شرابی تو پہنچلے کے پیالہ گل کا غنچہ کی گلابی تو پہنچWaliullah Muhib
  24. اے ہمدماں بھلاؤ نہ تم یاد رفتگاںواماندگاں کو ہے یہی ارشاد رفتگاںWaliullah Muhib
  25. اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑبس سلسلہ جنباں نہ ہو دیوانے کو مت چھیڑWaliullah Muhib
  26. بلبل بجائے اپنے تجھے ہم نوا سے بحثواشد میں گل کی محض غلط ہے صبا سے بحثWaliullah Muhib
  27. بلبل وہ گل ہے خواب میں تو گا کے مت جگایا چٹکیوں کی غنچوں سے بجوا کے گت جگاWaliullah Muhib
  28. بہ تسخیر بتاں تسبیح کیوں زاہد پھراتے ہیںیہ لوہے کے چنے واللہ عاشق ہی چباتے ہیںWaliullah Muhib
  29. پہچانے تو ہر دم وہی ہر آن وہی ہےجاناں وہی اے جان وہی جان وہی ہےWaliullah Muhib
  30. پہلے صف عشاق میں میرا ہی لہو چاٹشمشیر نگہ تیری نے کیا کیا نہ کیا کاٹWaliullah Muhib
  31. تروار کھینچ ہم کو دکھاتے ہو جب نہ تبکیا مر رہے جواں کو ستاتے ہو جب نہ تبWaliullah Muhib
  32. تم جانتے ہو کس لئے وہ مجھ سے گیا لڑاے ہمدم من اس کے کہیں اور لگی لڑWaliullah Muhib
  33. جسے گرم اختلاطی کی لگا دے دل میں تو آتشپھر اس کے سنگ تربت سے نہیں بجھتی کبھو آتشWaliullah Muhib
  34. جو مریض عشق کے ہیں ان کو شفا ہے کہ نہیںاے طبیب ان کی بھی دنیا میں دوا ہے کہ نہیںWaliullah Muhib
  35. جی چاہے کعبے جاؤ جی چاہے بت کو پوجویہ سن رکھو محبؔ تم عاشق کبھو نہ ہوجوWaliullah Muhib
  36. خانۂ دل کا جو طوائف ہےقصد بیت الحرم سے خائف ہےWaliullah Muhib
  37. دلا یہ مے کدۂ عشق ہے شراب تو پیشراب اگر نہیں خون دل خراب تو پیWaliullah Muhib
  38. دل خلقت خدا کو صنما جلا نہ چنداںکہ فلک کے پار پہنچے تف آہ درد منداںWaliullah Muhib
  39. دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیںتجھ بن تو اپنی زیست ہی دشوار ہے ہمیںWaliullah Muhib
  40. دیکھا جو کچھ جہاں میں کوئی دم یہ سب نہیںٹک آنکھ موندتے ہی تم اور ہم یہ سب نہیںWaliullah Muhib
  41. دیکھتا کچھ ہوں دھیان میں کچھ ہےہے یقیں کچھ گمان میں کچھ ہےWaliullah Muhib
  42. رائیگاں اوقات کھو کر حیف کھانا ہے عبثخوب رویوں سے جہاں کے دل لگانا ہے عبثWaliullah Muhib
  43. ساتھ غیروں کے ہے سدا غٹ پٹاک ہمیں سے رکھے ہے دل میں کپٹWaliullah Muhib
  44. شب فراق نہ کاٹے کٹے ہے کیا کیجےنہ صبح ہوئے ہے نہ پو پھٹے ہے کیا کیجےWaliullah Muhib
  45. شب نہ یہ سردی سے یخ بستہ زمیں ہر طرف ہےمہ پکارے ہے فلک پروردگی تو برف ہےWaliullah Muhib
  46. شورش سے چشم تر کی زبس غرق آب ہوںدن رات بحر غم میں برنگ حباب ہوںWaliullah Muhib
  47. صنم نے جب لب گوہر فشان کھول دیئےصدف کے موج تبسم نے کان کھول دیئےWaliullah Muhib
  48. کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطرتسبیح توڑ باندھا زنار تیری خاطرWaliullah Muhib
  49. کیا باغ جہاں میں نام ان کا سرو کہہ کہہ کرکئی آہیں جو نکلی تھیں مرے سینے سے رہ رہ کرWaliullah Muhib
  50. لالہ رو تم غیر کے پالے پڑےدیکھنے کے ہیں ہمیں لالے پڑےWaliullah Muhib