ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار

سید یوسف علی خاں ناظم

ناگاہ مجھے دکھا کے تاب رخسار

دین و دل و ہوش لے گئے وہ یکبار

آئے نہ دوبارہ کیوں کر آئیں کیوں آئیں

سچ ہے کہ تجلی کو نہیں ہے تکرار