کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطر

Waliullah Muhib

کافر ہوئے صنم ہم دیں دار تیری خاطر

تسبیح توڑ باندھا زنار تیری خاطر

گل سینہ چاک بلبل نالاں چمن میں دیکھی

آنکھوں کے دکھ سے نرگس بیمار تیری خاطر

ابرو کی تو اشارت جس کی طرف کرے تھا

چلتی تھی مجھ میں اس میں تلوار تیری خاطر

میں جھوٹ سچ بھی یک دم آنسو نہ ان کے پونچھے

جو چشم روز و شب ہیں خوں بار تیری خاطر

سب آشناؤں سے ہم بیگانہ ہو رہے تھے

اب زندگی ہے اپنی دشوار تیری خاطر

مسجد میں میکدے میں کیا کیفی اور صوفی

بے ہوش تیری خاطر ہشیار تیری خاطر

جو راہ عاشقی میں تھی پستی و بلندی

وہ ہم نے کی سراسر ہموار تیری خاطر

پتھرا گئی ہیں آنکھیں انجم کی طرح ہر شب

بیدار رہتے رہتے اے یار تیری خاطر

اس ابر میں چمن نے کیا کیا کیا ہے ساقی

اسباب مے کشی کا تیار تیری خاطر

ہر غنچہ ہے گلابی ہر گل ہے ساغر مے

مے خانہ ہو رہا ہے گلزار تیری خاطر

آگے تو کوچہ گردی شیوہ نہ تھا محبؔ کا

کی اب شروع اس نے ناچار تیری خاطر