جسے گرم اختلاطی کی لگا دے دل میں تو آتش
Waliullah Muhibجسے گرم اختلاطی کی لگا دے دل میں تو آتش
پھر اس کے سنگ تربت سے نہیں بجھتی کبھو آتش
لگائی تو نے یاں تک میکدے میں تند خو آتش
کہ پیالا ہے پر آتش اور صراحی تا گلو آتش
یہ آتش باغ میں ہم نے لگی دیکھی تھی کل تجھ بن
نسیم آتش چمن آتش گل آتش گل کی بو آتش
لکھیں ہم کس طرح کاغذ پر اپنا سوز دل تجھ کو
کہ دل آتش زباں آتش دم آتش گفتگو آتش
تف دل کے بجھانے کو ہماری خاک پر ساقی
چھڑکنا ہے مے گلگوں کی از دست سبو آتش
ہمارے آشیاں کے خار و خس کے تار و سوزن سے
کر اس چاک قبا سے شعلے کو اپنے رفو آتش
محبؔ کے دل میں داغ عشق کا کیوں کر نہ گل پھوٹے
کہ دیتا ہے بجائے آب آنکھوں سے لہو آتش