ساتھ غیروں کے ہے سدا غٹ پٹ

Waliullah Muhib

ساتھ غیروں کے ہے سدا غٹ پٹ

اک ہمیں سے رکھے ہے دل میں کپٹ

چنگل باز ہیں تری مژگاں

طائر دل کو پل میں لے ہے جھپٹ

تیری اس وضع دل ربائی سے

گھر کے گھر ہو گئے ہیں چوڑ چپٹ

وہ بھی دن پھر دکھائے گا اللہ

رات کو سوئے تو گلے سے لپٹ

پاس جب غیر کو بٹھاتا ہے

جائے ہے دل ترے ملاپ سے ہٹ

دیتے ہو بات بات میں بازی

ایک ہو اپنے کام کے نٹ کھٹ

ناز کی تیغ غیر پر مت کھینچ

دل ہمارا کہیں نہ جاوے کٹ

جس طرح چاند پر ہو ابر سیاہ

زلف یوں مکھڑے پر رہی ہے الٹ

عید ہے آج آ گلے مل لیں

دشمنوں کی تو جائے چھاتی پھٹ

غم میں تیرے ہیں اشک یوں جاری

ہر گھڑی جس طرح چلے ہے رہٹ

عشق وہ گھر ہے جس کے شاہ و گدا

با ادب چومتے رہے چوکھٹ

کل شیََٔ محیط کی تقریر

کھٹ سے انسان کے ہوئے پرگھٹ

دل بیچارہ اک تن تنہا

فوج غم آئے ہے تمام سمٹ

دوست کی ہو مدد تو یک دم میں

جائے یہ معرکہ تمام پلٹ

یاں قدم راہ پر سوائے نہ رکھ

اے محبؔ راہ عشق کی ہے بکٹ