تروار کھینچ ہم کو دکھاتے ہو جب نہ تب

Waliullah Muhib

تروار کھینچ ہم کو دکھاتے ہو جب نہ تب

کیا مر رہے جواں کو ستاتے ہو جب نہ تب

تقصیر ہم سے کون سی ایسی ہوئی وقوع

منہ پر جو ہاتھ میرے دھراتے ہو جب نہ تب

از بس مزاج ہم سے تمہارا کشیدہ ہے

آزردہ بات میں ہوئے جاتے ہو جب نہ تب

اب تو رکھا ہے کاٹ ہمارا یہ آپ نے

غیروں سے مل پتنگ اڑاتے ہو جب نہ تب

اک بات کا ہماری بتنگڑ بناتے ہو

سو جھوٹ سچ کو اپنے چھپاتے ہو جب نہ تب

اے واعظو یہ کیا تمہیں بکواس لگ گئی

میری سنو تم اپنی ہی گاتے ہو جب نہ تب

ہم درد دل کہیں تو جواب اس مزے سے دو

قصہ محبؔ یہ کس کو سناتے ہو جب نہ تب