Poetry
Poet
Meter
- محبت سے طریق دوستی سے چاہ سے مانگومرے صاحب کسی سے دل جو مانگو راہ سے مانگوWaliullah Muhib
- مرے دل میں ہجر کے باب ہیں تجھے اب تلک وہی ناز ہےجو یہ جی ہی لینے پہ ہے نظر تو قبول ہو یہ نماز ہےWaliullah Muhib
- معرکے میں عشق کے سر سے گزرنے سے نہ ڈرگر اٹھاتا ہے تو یہ جوکھوں تو مرنے سے نہ ڈرWaliullah Muhib
- ملتی ہے اسے گوہر شب تاب کی میراثلی مجھ دل صد پارہ نے سیماب کی میراثWaliullah Muhib
- میں جیتے جی تلک رہوں مرہون آپ کاگر آج قصد کیجیے مجھ سے ملاپ کاWaliullah Muhib
- مے گلگوں کے جو شیشے میں پری رہتی ہےچشم مستوں میں عجب جلوہ گری رہتی ہےWaliullah Muhib
- واں جو کچھ کعبے میں اسرار ہے اللہ اللہسو مرے بت میں نمودار ہے اللہ اللہWaliullah Muhib
- ہر آن یاس بڑھنی ہر دم امید گھٹنیدن حشر کا ہے اب تو فرقت کی رات کٹنیWaliullah Muhib
- ہماری چاہ صاحب جانتے ہیںکہوں کیا آہ صاحب جانتے ہیںWaliullah Muhib
- ہو جس قدر کہ تجھ سے اے پر جفا جفا کرکہتا ہوں میں بھی تجھ سے اے با وفا وفا کرWaliullah Muhib
- ہے مرے پہلو میں اور مجھ کو نظر آتا نہیںاس پری کا سحر یارو کچھ کہا جاتا نہیںWaliullah Muhib
- یوں گھر سے محبت کے کیا بھاگ چلے جاناکچھ اس میں سمجھتا ہے دے آگ چلے جاناWaliullah Muhib
- مل اس پری سے کیا کیا ہوا دلشیدا ہوا دل رسوا ہوا دلWaliullah Muhib
- میری خبر نہ لینا اے یار ہے تعجبجی سے بچے جو مجھ سا بیمار ہے تعجبWaliullah Muhib
- نہیں دنیا میں سوا خار و خس کوچۂ دوستسر شوریدہ کی خواہش بکلاہے گاہےWaliullah Muhib
- وہیں جی اٹھتے ہیں مردے یہ کیا ٹھوکر سے چھونا ہےوہ رفتار اور وہ قامت قیامت کا نمونہ ہےWaliullah Muhib
- آج مہندی لگائے بیٹھے ہیںخوب وہ رنگ لائے بیٹھے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- اس نے آنے کا جو وعدہ کیا جاتے جاتےدم مرا سینے میں رکنے لگا آتے جاتےمرزا آسمان جاہ انجم
- الٰہی کوئی ہوا کا جھونکا دکھا دے چہرہ اڑا کے آنچلکہ جھانکتا بھی ہے وہ ستمگر تو کھڑکھڑی میں لگا کے آنچلمرزا آسمان جاہ انجم
- امید مہر پر اک حسرت دل ہم بھی رکھتے تھےتمنا وصل کی اے ماہ کامل ہم بھی رکھتے تھےمرزا آسمان جاہ انجم
- انجمؔ اگر نہیں در دل دار تک پہنچہو جائے کاش روزن دیوار تک پہنچمرزا آسمان جاہ انجم
- انجمؔ تمہیں الفت ابھی کرنا نہیں آتاہر ایک پہ مرتے ہو پہ مرنا نہیں آتامرزا آسمان جاہ انجم
- باعث ترک ملاقات بتاؤ تو سہیچاہنے والا کوئی ہم سا دکھاؤ تو سہیمرزا آسمان جاہ انجم
- بتا تو دل کے بچانے کی کوئی راہ بھی ہےتری نگاہ کی ناوک فگن پناہ بھی ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- بطرز دلبری بیداد کیجےجفاؤں میں ادا ایجاد کیجےمرزا آسمان جاہ انجم
- پھول جتنے ہیں تمہارے ہار میںسب گندھے ہیں آنسوؤں کے تار میںمرزا آسمان جاہ انجم
- پئے گناہ ہے تیری پناہ کی تخصیصکہ ہے تجھی پہ ہر اک داد خواہ کی تخصیصمرزا آسمان جاہ انجم
- جوش پر اپنی مستیاں آئیںیاد کس کی یہ شوخیاں آئیںمرزا آسمان جاہ انجم
- چل بسے جو کہ تھے جانے والےاب نہیں پھر کے وہ آنے والےمرزا آسمان جاہ انجم
- چلے آؤ اگر دم بھر کو تم تو یہ جاتا رہے فی الفور مرضکہ نہیں ہے بجز بیماریٔ غم مری جان مجھے کوئی اور مرضمرزا آسمان جاہ انجم
- خدا خدا کر کے آئے بھی وہ تو منہ لپیٹے پڑے ہوئے ہیںنہ کہتے ہیں کچھ نہ سنتے ہیں کچھ کسی سے جیسے لڑے ہوئے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- دکھاتا ہے مرا دل بے الف رےہوا ہوں رنج سے میں زے الف رےمرزا آسمان جاہ انجم
- دل لے کے برائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنوپھر ذکر جدائی کرتے ہیں لو اور سنو لو اور سنومرزا آسمان جاہ انجم
- دل لے کے ہمارا پھرتا ہے یہ کون وطیرہ تیرا ہےکرتا ہے چھچھوری باتیں کیوں ہر بات میں تیرا میرا ہےمرزا آسمان جاہ انجم
- دم رخصت جو ان سے کہہ کے میں اٹھا خدا حافظلگے جھنجھلا کے وہ کہنے بہت اچھا خدا حافظمرزا آسمان جاہ انجم
- رنگ بدلا ہے کئی دن سے مزاج یار کاجوڑ شاید چل گیا پھر آج کل اغیار کامرزا آسمان جاہ انجم
- سارے عالم میں نور ہے تیراہر جگہ پر ظہور ہے تیرامرزا آسمان جاہ انجم
- سوال کیا کروں تجھ سے گناہ گار ہوں میںنگاہ چار ہو کیوں کر کہ شرمسار ہوں میںمرزا آسمان جاہ انجم
- شبیہ خنجر قاتل بنا کررکھی سینے میں ہم نے دل بنا کرمرزا آسمان جاہ انجم
- صاف ہم تم سے آج کتنے ہیںسب تمہیں بد مزاج کہتے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- عرش و کرسی کی خبر لائے ہیں لانے والےایک موسیٰ ہی نہ تھے طور کے جانے والےمرزا آسمان جاہ انجم
- کبھی انجمؔ اسے ہشیار تو کرکوئی نالہ پس دیوار تو کرمرزا آسمان جاہ انجم
- کبھی لکھتا ہوں میں ان کو اگر خطچلا جاتا ہے قاصد بھول کر خطمرزا آسمان جاہ انجم
- کیوں خود بخود پھری نگہ یار کیا سببکیوں سرنگوں ہے ابروئے خمدار کیا سببمرزا آسمان جاہ انجم
- گر انہیں ہے اپنی صورت پر گھمنڈہم کو ہے اپنی محبت پر گھمنڈمرزا آسمان جاہ انجم
- گر جفا کی نہ ہو وفا مانعکوئی ظالم نہیں ترا مانعمرزا آسمان جاہ انجم
- لطف ہو گر تو ہو اور مے خانہ ہومیں ہوں اور میرا دل دیوانہ ہومرزا آسمان جاہ انجم
- لگی ہے مسی پان کھائے ہوئے ہیںسنانے پہ بیڑا اٹھائے ہوئے ہیںمرزا آسمان جاہ انجم
- مری جاں جدائی نہ ہوگی تو ہوگیکسی دن لڑائی نہ ہوگی تو ہوگیمرزا آسمان جاہ انجم
- میرے جانب سے اسے جا جا کے سمجھاتے ہیں لوگوہ نہیں سننے کا ضد بیکار دلواتے ہیں لوگمرزا آسمان جاہ انجم