اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑ

Waliullah Muhib

اے ہم نفس اس زلف کے افسانے کو مت چھیڑ

بس سلسلہ جنباں نہ ہو دیوانے کو مت چھیڑ

جس رنگ سے ہے دل میں مرے عشق رخ یار

ناصح نہ ہو دیوانہ پری خانے کو مت چھیڑ

وہ شمع مجالس تو ہے فانوس میں روشن

اے عشق تو مجھ سوختہ پروانے کو مت چھیڑ

تو آپ ہے پیماں شکن اس دور میں ساقی

کہتا ہے مجھے بزم میں پیمانے کو مت چھیڑ

تروار سے کیا ہم کو ڈراتا ہے میاں جا

یاں آپ سے موجود ہیں مر جانے کو مت چھیڑ

ہمدم نہ کہہ اس وقت کہ بوسے کی طلب کر

مجلس میں مجھے گالیاں دلوانے کو مت چھیڑ

منظور اگر چھیڑ ہنسی کی ہے تو پیارے

ہوتے محبؔ اپنے کے تو بیگانے کو مت چھیڑ