دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیں

Waliullah Muhib

دنیا میں کیا کسی سے سروکار ہے ہمیں

تجھ بن تو اپنی زیست ہی دشوار ہے ہمیں

تو ہی نہیں تو جان تری جان کی قسم

یہ جان کس کے واسطے درکار ہے ہمیں

گرتے ہیں دکھ سے تیری جدائی کے ورنہ خیر

چنگے بھلے ہیں کچھ نہیں آزار ہے ہمیں

مر بچ کے دن تو گزرے ہے جوں توں پر اس طرح

نظروں میں نور مہر شب تار ہے ہمیں

پھر رات کی نہ پوچھ حقیقت کہ صبح تک

آہ و فغان و دیدۂ خونبار ہے ہمیں

ہو کر اداس باغ میں جاویں کبھو تو واں

نظروں کے بیچ ہر رگ گل خار ہے ہمیں

دن کا وہ حال رات کا وہ کچھ بیان ہے

سیر چمن سو دل سے کچھ اے یار ہے ہمیں

تس پر بھی ہم سے ملنے کا انکار ہے تجھے

جس میں تری رضا سوئے اقرار ہے ہمیں

شکوے بھرے ہیں دل میں ولیکن محبؔ من

کب تیرے آگے طاقت گفتار ہے ہمیں