صنم نے جب لب گوہر فشان کھول دیئے

Waliullah Muhib

صنم نے جب لب گوہر فشان کھول دیئے

صدف کے موج تبسم نے کان کھول دیئے

تری نسیم تبسم نے غنچہ ساں دل کے

جو عقدے بند تھے آناً فان کھول دیئے

سرشک چشم نے کر شہر بند دل کو خراب

تمام عشق کے راز نہان کھول دیئے

یہ کس کی کاوش مژگاں نے دل سے تا سر چشم

ہزار چشمۂ آب روان کھول دیئے

چمن چمن ترے عارض کے رنگ حسرتؔ نے

بہ چشم گل مژۂ خوں چکان کھول دیئے

نکالوں دل سے میں نالے کی کس طرح آواز

تری نگہ نے عجب سرمہ دان کھول دیئے

ہوائے خاک نشینی نے بے غبار محبؔ

نظر میں پردۂ ہفت آسمان کھول دیئے