ضائع ہوا تمام ہنر نیند آ گئی

Balmohan panday (b. 1998)

ضائع ہوا تمام ہنر نیند آ گئی

شب کو سجا رہا تھا مگر نیند آ گئی

میں چاہتا تو یہ ہوں کہانی طویل ہو

پھر یہ بھی سوچتا ہوں اگر نیند آ گئی

کروٹ بدل لی دونوں نے اک خامشی کے بعد

میں رو پڑا اور اس کو ادھر نیند آ گئی

دفتر میں طے کیا تھا کہ تارے گنیں گے آج

لیکن ہمیں پہنچتے ہی گھر نیند آ گئی

کچھ دوستوں نے آنے سے انکار کر دیا

کچھ دوستوں کو بیچ سفر نیند آ گئی

اک رات عمر بھر کی تھکن کا سبب اے دوست

ہم سوچ ہی رہے تھے مگر نیند آ گئی