ترے خیال کا دامن سخن نے تھام لیا
Balmohan panday (b. 1998)ترے خیال کا دامن سخن نے تھام لیا
فراق میں بھی محبت سے خوب کام لیا
ہمارا عشق عبادت کا اگلا درجہ ہے
خدا نے چھوڑ دیا تو تمہارا نام لیا
غموں سے بیر تھا سو ہم نے خود کشی کر لی
شجر گرا کے پرندوں سے انتقام لیا
بچھڑ کے تم سے کئی بچھڑے لوگ یاد آئے
دیا بجھا تو انہیں جگنوؤں سے کام لیا
نگاہ شوق کی آمد ہوئی تھی بستی میں
ہر ایک چاند نے پھر اپنا اپنا بام لیا