اک سکوں سا دکھتا ہے آپ کے انوپ میں
Zafar Awan (b. 1982)اک سکوں سا دکھتا ہے آپ کے انوپ میں
جیسے کوئی بیٹھا ہو سردیوں کی دھوپ میں
ایک بار جو ملا وہ تو ہو گیا ترا
کوئی جادو ٹونا ہے تیرے رنگ روپ میں
میرا بس چلے تو میں چاند تم پہ وار دوں
تیرا حق یہ بنتا ہے با خدا سروپ میں
میری ذات میں تو اب ذات ایک ہے بسی
جا بجا مکین ہے جسم و جاں کے لوپ میں
سب مکان جس کے ہیں اور لا مکاں ہے جو
جس کے سارے روپ ہیں رہتا ہے اروپ میں
دوزخوں کی آگ یوں دور ہم سے ہو گئی
بخش دی بہشت جو رب نے ماں کے روپ میں
ڈھونڈتے ہو تم ظفرؔ کن کے راز کو ابھی
ہم نے وہ بھی پا لیا جو چھپا نروپ میں