Poetry
Poet
Meter
- بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گاکیا خدا مجھ کو بھی ایسی بھلی قسمت دے گاaabid umar (b. 1977)
- جو بھی ہے حسب حال کھینچیں گےاس کا نقشہ کمال کھینچیں گےaabid umar (b. 1977)
- جو صاف گو ہوں تو اونچی جگہ کھڑا ملوں گاوگرنہ تجھ کو کہیں خاک میں پڑا ملوں گاaabid umar (b. 1977)
- مجھ ایسے شخص کی حاجت روائی کرتے ہوئےبھٹک گیا تھا وہ کار خدائی کرتے ہوئےaabid umar (b. 1977)
- ورق وہی تھا مگر دوسری پرت چاہیکہ میں نے اس کی محبت سے منفعت چاہیaabid umar (b. 1977)
- وفا کی خو پس جاہ و جلال رہ گئی تھیانا کے خول میں وہ بے مثال رہ گئی تھیaabid umar (b. 1977)
- ہو گیا جیسے ترا دیدار پہلا آخریہو بھی سکتا ہے کسی کا پیار پہلا آخریaabid umar (b. 1977)
- یوں تری راہ میں پڑے ہوئے ہیںجیسے درگاہ میں پڑے ہوئے ہیںaabid umar (b. 1977)
- یہ کیا پڑی ہے تجھے دل جلوں میں بیٹھنے کییہ عمر تو ہے میاں دوستوں میں بیٹھنے کیaabid umar (b. 1977)
- اک انوکھی رسم کو زندہ رکھا ہےخون ہی نے خون کو پسپا رکھا ہےTahir Azeem (b. 1978)
- اک ضرورت میں صرف ہو گئے تھےپھر مرے ہاتھ برف ہو گئے تھےTahir Azeem (b. 1978)
- اک وحشت سی در آئی ہے آنکھوں میںاپنی صورت دھندلائی ہے آنکھوں میںTahir Azeem (b. 1978)
- ان اندھیروں سے لے کے جاؤں گامیں تجھے روشنی دکھاؤں گاTahir Azeem (b. 1978)
- ایک صف میں شجر لگے ہوئے ہیںہم بھی اک شاخ پر لگے ہوئے ہیںTahir Azeem (b. 1978)
- بڑھ رہا ہوں خیال سے آگےکچھ نہیں ماہ و سال سے آگےTahir Azeem (b. 1978)
- تمہیں کچھ اجنبی اندر ملیں گےہم اپنے شہر سے باہر ملیں گےTahir Azeem (b. 1978)
- جیسے سوال میں ہو کوئی جواب سارکھ کر چلا گیا وہ آنکھوں میں خواب ساTahir Azeem (b. 1978)
- خواب سا تھا خیال آخر شبرہ گیا اک ملال آخر شبTahir Azeem (b. 1978)
- خواہشوں کی بادشاہی کچھ نہیںدل میں شوق کج کلاہی کچھ نہیںTahir Azeem (b. 1978)
- روشنی کے جو طلب گار ہوئے ہم دونوںایک سورج کے خریدار ہوئے ہم دونوںTahir Azeem (b. 1978)
- زندگی سے مکرنے والوں کویاد رکھتے ہیں مرنے والوں کوTahir Azeem (b. 1978)
- کسے معلوم حال دل ہمارامحبت میں ہے مستقبل ہماراTahir Azeem (b. 1978)
- مجھ کو بھی حق ہے زندگانی کامیں بھی کردار ہوں کہانی کاTahir Azeem (b. 1978)
- محبت سے گزر جانا ہمارانہ تھا آسان مر جانا ہماراTahir Azeem (b. 1978)
- موسم گل بہار کے دن تھےجو ترے میرے پیار کے دن تھےTahir Azeem (b. 1978)
- میں اس کی محبت سے اک دن بھی مکر جاتاکچھ اور نہیں ہوتا اس دل سے اتر جاتاTahir Azeem (b. 1978)
- وہی اک بات جو آئی گئی ہےبہت تکلیف پہنچائی گئی ہےTahir Azeem (b. 1978)
- ہر درد کی دوا بھی ضروری نہیں کہ ہومیرے لئے ذرا بھی ضروری نہیں کہ ہوTahir Azeem (b. 1978)
- ہماری روح کس درجہ ہے پیاسیاچانک گھیر لیتی ہے اداسیTahir Azeem (b. 1978)
- یہ جو شیشہ ہے دل نما مجھ میںٹوٹ جاتا ہے بارہا مجھ میںTahir Azeem (b. 1978)
- وہ حرف آخر کہاں گیا ہےوہ حرف جس کی تہوں میں اپنیTahir Azeem (b. 1978)
- ایک اک لمحے کو پلکوں پہ سجاتا ہوا گھرراس آتا ہے کسے ہجر مناتا ہوا گھرAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- پاؤں پتوں پہ دھیرے سے دھرتا ہواوہ گزر جائے گا یوں ہی ڈرتا ہواAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- جو اشک بن کے ہماری پلک پہ بیٹھا تھاتمہیں بھی یاد ہے اب تک وہ خواب کس کا تھاAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- چاند تارے بنا کے کاغذ پرخوش ہوئے گھر سجا کے کاغذ پرAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- دن کے سینے پہ شام کا پتھرایک پتھر پہ دوسرا پتھرAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- راستے سکھاتے ہیں کس سے کیا الگ رکھنامنزلیں الگ رکھنا قافلہ الگ رکھناAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہےنظر سے گرنا بھی گویا خبر میں رہنا ہےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہےابھی کھڑکی میں اک جلتا دیا ہےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- نہیں مٹتیکسی کی بھوکAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- اس کے ہرے رہنےسوکھنےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- اک پتی کےٹوٹنے گرنے کی آواز سےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- بجا ہے کہبارشوں سے پہلے بھیAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- بکھر گیاہوا کے تھپیڑے سےAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- پسند آئے گاآہنگAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- جہاں سےہوا تھاAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- سمٹ آئے ہیںساتوں سمندرAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- لٹکا دیادنAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- پلٹ کر دیکھ بھر سکتی ہیںبھیڑیںAadil Raza Mansoori (b. 1978)
- ہر روزبدل جاتا ہے کچھ نہ کچھAadil Raza Mansoori (b. 1978)