کسے معلوم حال دل ہمارا

Tahir Azeem (b. 1978)

کسے معلوم حال دل ہمارا

محبت میں ہے مستقبل ہمارا

یہ بت بھی خانۂ دل میں رہیں گے

مگر ایمان ہے کامل ہمارا

اگر یہ بوجھ ہے نازک بدن پر

کسی پتھر پہ رکھو دل ہمارا

ہمیں تقسیم ہی اس نے کیا ہے

میسر ہے جسے حاصل ہمارا

ہم اپنی پیاس سے ابھرے نہیں ہیں

سمندر ہو گیا ساحل ہمارا

تو پھر ہم قتل کیسے ہو رہے ہیں

نہیں جب کوئی بھی قاتل ہمارا