تمہیں کچھ اجنبی اندر ملیں گے
Tahir Azeem (b. 1978)تمہیں کچھ اجنبی اندر ملیں گے
ہم اپنے شہر سے باہر ملیں گے
جہاں ٹپکا ہے خون دل ہمارا
وہاں نقشوں بھرے پتھر ملیں گے
جدائی ہم پہ شاید منکشف ہو
بچھڑنے کے لئے اکثر ملیں گے
کوئی آواز دامن گیر ہوگی
کئی چہرے ہمیں بڑھ کر ملیں گے
تو پھر آوارگی کا کیا بنے گا
ہم ایسے لوگ جب گھر پر ملیں گے
سپہ سالار تو کوئی نہ ہوگا
کئی بکھرے ہوئے لشکر ملیں گے