ایک صف میں شجر لگے ہوئے ہیں

Tahir Azeem (b. 1978)

ایک صف میں شجر لگے ہوئے ہیں

ہم بھی اک شاخ پر لگے ہوئے ہیں

جتنا افسوس کیجیے کم ہے

وقت کو جیسے پر لگے ہوئے ہیں

شب کی تصویر نامکمل ہے

کچھ ستارے ادھر لگے ہوئے ہیں

چاند کو آئنہ دکھانا ہے

شام سے شیشہ گر لگے ہوئے ہیں

دل کا آنگن بھرا ہے کانٹوں سے

پھول دیوار پر لگے ہوئے ہیں