Poetry
Poet
Meter
- مانگتے مانگتے دعا مرے ساتھبجھ گیا آخری دیا مرے ساتھNadeem Bhabha (b. 1977)
- محبت لازمی ہے مانتا ہوںمگر ہم زاد اب میں تھک گیا ہوںNadeem Bhabha (b. 1977)
- مل رہے ہو بڑی عقیدت سےخوف آتا ہے اتنی عزت سےNadeem Bhabha (b. 1977)
- میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوںکسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوںNadeem Bhabha (b. 1977)
- میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوںتخت کے بعد ترے پاؤں میں دیکھا گیا ہوںNadeem Bhabha (b. 1977)
- وقت کی طرح ترے ہاتھ سے نکلے ہوئے ہیںہم ستارے ہیں مگر رات سے نکلے ہوئے ہیںNadeem Bhabha (b. 1977)
- ہجر ہوں پورا ہجر ہوں عشق وصال کرےدل کی دھڑکن تال ہو جسم دھمال کرےNadeem Bhabha (b. 1977)
- ہمارے حافظے بے کار ہو گئے صاحبجواب اور بھی دشوار ہو گئے صاحبNadeem Bhabha (b. 1977)
- اے کاش ہو برسات ذرا اور ذرا اوربڑھ جائے ملاقات ذرا اور ذرا اورEhya Bhojpuri (b. 1977)
- تبصرہ کیوں کر رہے ہو بارہا اجداد پرفیصلہ ہوگا تمہارا آج کی بنیاد پرEhya Bhojpuri (b. 1977)
- تجھے بھی حسن مطلق کا ابھی دیدار ہو جائےمرے محبوب کے جو رو بہ رو اک بار ہو جائےEhya Bhojpuri (b. 1977)
- تمہاری تاریخ کوئی بدلے اسے مٹائے تو سر اٹھاؤاگر شرافت نہ کام آئے نہ حق دلائے تو سر اٹھاؤEhya Bhojpuri (b. 1977)
- جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلےزخم کی تہہ میں کئی زخم پرانے نکلےEhya Bhojpuri (b. 1977)
- زبان بند رکھیں اور تم سے ڈر جائیںیہ بات ذہن میں آنے سے قبل مر جائیںEhya Bhojpuri (b. 1977)
- قسم خدا کی نہ جانا کہیں نہیں جانابہت برا ہے زمانہ کہیں نہیں جاناEhya Bhojpuri (b. 1977)
- کتنا کمزور ہے ایمان پتا لگتا ہےگھر میں آیا ہوا مہمان برا لگتا ہےEhya Bhojpuri (b. 1977)
- کسی کی چاہت میں قید رہنا برا نہیں ہے تو اور کیا ہےبغیر کھڑکی کے گھر میں رہنا سزا نہیں ہے تو اور کیا ہےEhya Bhojpuri (b. 1977)
- کیوں ہر طرف تو خوار ہوا احتساب کرناراض کیوں ہے تجھ سے خدا احتساب کرEhya Bhojpuri (b. 1977)
- مطلب کا کوئی شعر سنائیں جہاں پناہہم سامعیں پہ قہر نہ ڈھائیں جہاں پناہEhya Bhojpuri (b. 1977)
- مقصد زندگی ڈھونڈھتا رہ گیااک سرا جب ملا دوسرا رہ گیاEhya Bhojpuri (b. 1977)
- ہاتھوں کی لکیروں کا لکھا کاٹ رہے ہیںہم اپنے گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیںEhya Bhojpuri (b. 1977)
- ہجرت کرو تو رشتہ و سامان چھوڑ کرورنہ نہ جاؤ تم کبھی میدان چھوڑ کرEhya Bhojpuri (b. 1977)
- ہیں میرے زخم کی رعنائیاں عجیب و غریبکہ اس کو چاہئے گہرائیاں عجیب و غریبEhya Bhojpuri (b. 1977)
- آتا نہیں عدو سے یاری مجھے نبھاناملتا نہیں وہ دل سے پھر ہاتھ کیا ملاناEhya Bhojpuri (b. 1977)
- آ ہی جاتے ہو خواب میں ہر شبتم مرا کتنا دھیان رکھتے ہوEhya Bhojpuri (b. 1977)
- جس روشنی پہ عکس کا دار و مدار ہےاس روشنی کو کون دکھائے گا آئنہEhya Bhojpuri (b. 1977)
- خود پر کسی کو ہنسنے کا موقع نہیں دیاپوچھا کسی نے حال تو سگریٹ جلا لیاEhya Bhojpuri (b. 1977)
- دل کے اندر بھی چار خانے ہیںکوئی کیسے نہ بد گماں ہوگاEhya Bhojpuri (b. 1977)
- سکون کتنا تھا جھونپڑی میںمحل میں آ کر پتا چلا ہےEhya Bhojpuri (b. 1977)
- کام کچھ تو کیجئے اپنی بقا کے واسطےانقلابی نام سے تو انقلاب آتا نہیںEhya Bhojpuri (b. 1977)
- کھٹک رہا ہوں مسلسل کسی کی آنکھوں میںاسی لئے تو نشانے پہ بار بار ہوں میںEhya Bhojpuri (b. 1977)
- مرا گھر جلانے والے مجھے فکر ہے تری بھیکہ ہوا کا رخ جو بدلا ترا گھر بھی جل نہ جائےEhya Bhojpuri (b. 1977)
- اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننامجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بنناAamir Suhail (b. 1977)
- ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہےہماری آنکھ میں اک شخص بے تحاشا ہےAamir Suhail (b. 1977)
- اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہےمٹھی میں جہاں پاؤں میں زنجیر عجب ہےAamir Suhail (b. 1977)
- اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہواجس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہواAamir Suhail (b. 1977)
- دل یار کا تخت ہوا ہی نہیںجیون خوش بخت ہوا ہی نہیںAamir Suhail (b. 1977)
- رستے میں عجب آثار ملےجوں کوئی پرانا یار ملےAamir Suhail (b. 1977)
- سبز حکایت سرخ کہانیتیرے آنچل کی مہمانیAamir Suhail (b. 1977)
- سر کو آواز سے وحشت ہی سہیاور وحشت میں اذیت ہی سہیAamir Suhail (b. 1977)
- سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میںالجھنیں کتنی ہیں اس عشق کی آسانی میںAamir Suhail (b. 1977)
- کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہوکسی بھی اپسرا سے گفتگو نہ ہوAamir Suhail (b. 1977)
- کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنےحرم سرا سے بلایا ہمیں وطن اپنےAamir Suhail (b. 1977)
- گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحابہٹا دیے ہیں زمان و مکاں کے ہم نے حجابAamir Suhail (b. 1977)
- لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سےکسی دشا میں اچھالا نہیں گیا مجھ سےAamir Suhail (b. 1977)
- لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیںچراغ بام سے جس کو اتر کے دیکھتے ہیںAamir Suhail (b. 1977)
- مٹی کی صراحی ہےپانی کی گواہی ہےAamir Suhail (b. 1977)
- یہ ترے حسن کا آویزہ جو مہتاب نہیںکعبۂ عشق نہیں روضہ یک خواب نہیںAamir Suhail (b. 1977)
- پرانے بوٹ ہیں تسمے کھلے ہیںابھی مٹی کے چہرے ان دھلے ہیںAamir Suhail (b. 1977)
- برا ہی کیا تھا جو آپ اپنی مثال ہوتے کمال ہوتےکسی طرح سے جو ٹوٹے رشتے بحال ہوتے کمال ہوتےaabid umar (b. 1977)