Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. مانگتے مانگتے دعا مرے ساتھبجھ گیا آخری دیا مرے ساتھNadeem Bhabha (b. 1977)
  2. محبت لازمی ہے مانتا ہوںمگر ہم زاد اب میں تھک گیا ہوںNadeem Bhabha (b. 1977)
  3. مل رہے ہو بڑی عقیدت سےخوف آتا ہے اتنی عزت سےNadeem Bhabha (b. 1977)
  4. میں ایسے موڑ پر اپنی کہانی چھوڑ آیا ہوںکسی کی آنکھ میں پانی ہی پانی چھوڑ آیا ہوںNadeem Bhabha (b. 1977)
  5. میں کھجوروں بھرے صحراؤں میں دیکھا گیا ہوںتخت کے بعد ترے پاؤں میں دیکھا گیا ہوںNadeem Bhabha (b. 1977)
  6. وقت کی طرح ترے ہاتھ سے نکلے ہوئے ہیںہم ستارے ہیں مگر رات سے نکلے ہوئے ہیںNadeem Bhabha (b. 1977)
  7. ہجر ہوں پورا ہجر ہوں عشق وصال کرےدل کی دھڑکن تال ہو جسم دھمال کرےNadeem Bhabha (b. 1977)
  8. ہمارے حافظے بے کار ہو گئے صاحبجواب اور بھی دشوار ہو گئے صاحبNadeem Bhabha (b. 1977)
  9. اے کاش ہو برسات ذرا اور ذرا اوربڑھ جائے ملاقات ذرا اور ذرا اورEhya Bhojpuri (b. 1977)
  10. تبصرہ کیوں کر رہے ہو بارہا اجداد پرفیصلہ ہوگا تمہارا آج کی بنیاد پرEhya Bhojpuri (b. 1977)
  11. تجھے بھی حسن مطلق کا ابھی دیدار ہو جائےمرے محبوب کے جو رو بہ رو اک بار ہو جائےEhya Bhojpuri (b. 1977)
  12. تمہاری تاریخ کوئی بدلے اسے مٹائے تو سر اٹھاؤاگر شرافت نہ کام آئے نہ حق دلائے تو سر اٹھاؤEhya Bhojpuri (b. 1977)
  13. جب کبھی درد کی تصویر بنانے نکلےزخم کی تہہ میں کئی زخم پرانے نکلےEhya Bhojpuri (b. 1977)
  14. زبان بند رکھیں اور تم سے ڈر جائیںیہ بات ذہن میں آنے سے قبل مر جائیںEhya Bhojpuri (b. 1977)
  15. قسم خدا کی نہ جانا کہیں نہیں جانابہت برا ہے زمانہ کہیں نہیں جاناEhya Bhojpuri (b. 1977)
  16. کتنا کمزور ہے ایمان پتا لگتا ہےگھر میں آیا ہوا مہمان برا لگتا ہےEhya Bhojpuri (b. 1977)
  17. کسی کی چاہت میں قید رہنا برا نہیں ہے تو اور کیا ہےبغیر کھڑکی کے گھر میں رہنا سزا نہیں ہے تو اور کیا ہےEhya Bhojpuri (b. 1977)
  18. کیوں ہر طرف تو خوار ہوا احتساب کرناراض کیوں ہے تجھ سے خدا احتساب کرEhya Bhojpuri (b. 1977)
  19. مطلب کا کوئی شعر سنائیں جہاں پناہہم سامعیں پہ قہر نہ ڈھائیں جہاں پناہEhya Bhojpuri (b. 1977)
  20. مقصد زندگی ڈھونڈھتا رہ گیااک سرا جب ملا دوسرا رہ گیاEhya Bhojpuri (b. 1977)
  21. ہاتھوں کی لکیروں کا لکھا کاٹ رہے ہیںہم اپنے گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیںEhya Bhojpuri (b. 1977)
  22. ہجرت کرو تو رشتہ و سامان چھوڑ کرورنہ نہ جاؤ تم کبھی میدان چھوڑ کرEhya Bhojpuri (b. 1977)
  23. ہیں میرے زخم کی رعنائیاں عجیب و غریبکہ اس کو چاہئے گہرائیاں عجیب و غریبEhya Bhojpuri (b. 1977)
  24. آتا نہیں عدو سے یاری مجھے نبھاناملتا نہیں وہ دل سے پھر ہاتھ کیا ملاناEhya Bhojpuri (b. 1977)
  25. آ ہی جاتے ہو خواب میں ہر شبتم مرا کتنا دھیان رکھتے ہوEhya Bhojpuri (b. 1977)
  26. جس روشنی پہ عکس کا دار و مدار ہےاس روشنی کو کون دکھائے گا آئنہEhya Bhojpuri (b. 1977)
  27. خود پر کسی کو ہنسنے کا موقع نہیں دیاپوچھا کسی نے حال تو سگریٹ جلا لیاEhya Bhojpuri (b. 1977)
  28. دل کے اندر بھی چار خانے ہیںکوئی کیسے نہ بد گماں ہوگاEhya Bhojpuri (b. 1977)
  29. سکون کتنا تھا جھونپڑی میںمحل میں آ کر پتا چلا ہےEhya Bhojpuri (b. 1977)
  30. کام کچھ تو کیجئے اپنی بقا کے واسطےانقلابی نام سے تو انقلاب آتا نہیںEhya Bhojpuri (b. 1977)
  31. کھٹک رہا ہوں مسلسل کسی کی آنکھوں میںاسی لئے تو نشانے پہ بار بار ہوں میںEhya Bhojpuri (b. 1977)
  32. مرا گھر جلانے والے مجھے فکر ہے تری بھیکہ ہوا کا رخ جو بدلا ترا گھر بھی جل نہ جائےEhya Bhojpuri (b. 1977)
  33. اب تم کو ہی ساون کا سندیسہ نہیں بننامجھ کو بھی کسی اور کا رستہ نہیں بنناAamir Suhail (b. 1977)
  34. ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہےہماری آنکھ میں اک شخص بے تحاشا ہےAamir Suhail (b. 1977)
  35. اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہےمٹھی میں جہاں پاؤں میں زنجیر عجب ہےAamir Suhail (b. 1977)
  36. اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہواجس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہواAamir Suhail (b. 1977)
  37. دل یار کا تخت ہوا ہی نہیںجیون خوش بخت ہوا ہی نہیںAamir Suhail (b. 1977)
  38. رستے میں عجب آثار ملےجوں کوئی پرانا یار ملےAamir Suhail (b. 1977)
  39. سبز حکایت سرخ کہانیتیرے آنچل کی مہمانیAamir Suhail (b. 1977)
  40. سر کو آواز سے وحشت ہی سہیاور وحشت میں اذیت ہی سہیAamir Suhail (b. 1977)
  41. سسکیوں ہچکیوں آہوں کی فراوانی میںالجھنیں کتنی ہیں اس عشق کی آسانی میںAamir Suhail (b. 1977)
  42. کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہوکسی بھی اپسرا سے گفتگو نہ ہوAamir Suhail (b. 1977)
  43. کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنےحرم سرا سے بلایا ہمیں وطن اپنےAamir Suhail (b. 1977)
  44. گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحابہٹا دیے ہیں زمان و مکاں کے ہم نے حجابAamir Suhail (b. 1977)
  45. لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سےکسی دشا میں اچھالا نہیں گیا مجھ سےAamir Suhail (b. 1977)
  46. لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیںچراغ بام سے جس کو اتر کے دیکھتے ہیںAamir Suhail (b. 1977)
  47. مٹی کی صراحی ہےپانی کی گواہی ہےAamir Suhail (b. 1977)
  48. یہ ترے حسن کا آویزہ جو مہتاب نہیںکعبۂ عشق نہیں روضہ یک خواب نہیںAamir Suhail (b. 1977)
  49. پرانے بوٹ ہیں تسمے کھلے ہیںابھی مٹی کے چہرے ان دھلے ہیںAamir Suhail (b. 1977)
  50. برا ہی کیا تھا جو آپ اپنی مثال ہوتے کمال ہوتےکسی طرح سے جو ٹوٹے رشتے بحال ہوتے کمال ہوتےaabid umar (b. 1977)