ہماری روح کس درجہ ہے پیاسی
Tahir Azeem (b. 1978)ہماری روح کس درجہ ہے پیاسی
اچانک گھیر لیتی ہے اداسی
لئے پھرتی ہے ساری رات ہم کو
محبت ہے یا کوئی بد حواسی
وہ جس فرصت میں تجھ کو سوچتے تھے
میسر بھی نہیں ہے اب ذرا سی
تو کیوں راجہ بنے پھرتے ہو بھیا
کہانی میں نہ رانی ہے نہ داسی
یہاں ہر چیز پردے میں ہے ظاہر
کہاں جائے ہماری بے لباسی
تجھے جانا تو یہ جانا ہے ہم نے
تعلق بھی ہے کوئی خود شناسی