میں تمہارا اپنا ہوں آنکھ کھول کر دیکھو
Daood Mohsin (b. 1962)میں تمہارا اپنا ہوں آنکھ کھول کر دیکھو
اپنے دل کو اے جاناں تم ٹٹول کر دیکھو
تختیاں ہیں ناموں کی خوش نما ہر اک در پر
اک اتھاہ ویرانی گھر جو کھول کر دیکھو
یہ سلگتے نظارے یہ دھواں دھواں منظر
گونجتے ہیں سناٹے کچھ تو بول کر دیکھو
نقش چھوڑ جائیں گے لفظ میرے ہر دل پر
عقل کی ترازو میں تم جو تول کر دیکھو
لکھ سکو گے تم محسنؔ ظلمتوں کے افسانے
روشنائی میں تھوڑا عزم گھول کر دیکھو