ہم سے لمحات خوشی کے بھی سنبھالے نہ گئے

Daood Mohsin (b. 1962)

ہم سے لمحات خوشی کے بھی سنبھالے نہ گئے

درد پر درد اٹھے اور وہ ٹالے نہ گئے

موت سے کم ہیں کہاں تلخ یہ میرے دن رات

غم فرقت کے وہ رستے ہوئے چھالے نہ گئے

خود کو منسوب کیا نام تمہارے ہم نے

نزع کے وقت بھی تم دل سے نکالے نہ گئے

غوطہ زن ہوتے رہے بحر تفکر میں مگر

ہم سے اسرار کے موتی بھی کھنگالے نہ گئے

ان کی یادوں کے تھپیڑوں سے نہیں ہم کو نجات

اشک کے سیل کبھی ہم سے سنبھالے نہ گئے

درد و غم رنج و الم کرب و خلش اے محسنؔ

برق کی طرح گرے اور یہ ٹالے نہ گئے