Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. تیری خوشبو کا پتا کرتی ہےمجھ پہ احسان ہوا کرتی ہےParveen Shakir (1952–1994)
  2. ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیابجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیاParveen Shakir (1952–1994)
  3. جب ساز کی لے بدل گئی تھیوہ رقص کی کون سی گھڑی تھیParveen Shakir (1952–1994)
  4. جستجو کھوئے ہوؤں کی عمر بھر کرتے رہےچاند کے ہم راہ ہم ہر شب سفر کرتے رہےParveen Shakir (1952–1994)
  5. جگا سکے نہ ترے لب لکیر ایسی تھیہمارے بخت کی ریکھا بھی میرؔ ایسی تھیParveen Shakir (1952–1994)
  6. جلا دیا شجر جاں کہ سبز بخت نہ تھاکسی بھی رت میں ہرا ہو یہ وہ درخت نہ تھاParveen Shakir (1952–1994)
  7. چارہ سازوں کی اذیت نہیں دیکھی جاتیتیرے بیمار کی حالت نہیں دیکھی جاتیParveen Shakir (1952–1994)
  8. چراغ راہ بجھا کیا کہ رہنما بھی گیاہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیاParveen Shakir (1952–1994)
  9. چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیاعشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیاParveen Shakir (1952–1994)
  10. حرف تازہ نئی خوشبو میں لکھا چاہتا ہےباب اک اور محبت کا کھلا چاہتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  11. خوشی کی بات ہے یا دکھ کا منظر دیکھ سکتی ہوںتری آواز کا چہرہ میں چھو کر دیکھ سکتی ہوںParveen Shakir (1952–1994)
  12. خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسمبچھڑ گیا تری صورت بہار کا موسمParveen Shakir (1952–1994)
  13. دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہےتری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہےParveen Shakir (1952–1994)
  14. دکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا آہستہاے خدا اب کے چلے زرد ہوا آہستہ آہستہParveen Shakir (1952–1994)
  15. دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملناوہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملناParveen Shakir (1952–1994)
  16. دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گاوہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گاParveen Shakir (1952–1994)
  17. دھوپ سات رنگوں میں پھیلتی ہے آنکھوں پربرف جب پگھلتی ہے اس کی نرم پلکوں پرParveen Shakir (1952–1994)
  18. ڈسنے لگے ہیں خواب مگر کس سے بولئےمیں جانتی تھی پال رہی ہوں سنپولیےParveen Shakir (1952–1994)
  19. رستہ بھی کٹھن دھوپ میں شدت بھی بہت تھیسائے سے مگر اس کو محبت بھی بہت تھیParveen Shakir (1952–1994)
  20. رکنے کا سمے گزر گیا ہےجانا ترا اب ٹھہر گیا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  21. رکی ہوئی ہے ابھی تک بہار آنکھوں میںشب وصال کا جیسے خمار آنکھوں میںParveen Shakir (1952–1994)
  22. رنگ خوش بو میں اگر حل ہو جائےوصل کا خواب مکمل ہو جائےParveen Shakir (1952–1994)
  23. زندگی بے سائباں بے گھر کہیں ایسی نہ تھیآسماں ایسا نہیں تھا اور زمیں ایسی نہ تھیParveen Shakir (1952–1994)
  24. سبھی گناہ دھل گئے سزا ہی اور ہو گئیمرے وجود پر تری گواہی اور ہو گئیParveen Shakir (1952–1994)
  25. سمندروں کے ادھر سے کوئی صدا آئیدلوں کے بند دریچے کھلے ہوا آئیParveen Shakir (1952–1994)
  26. سندر کومل سپنوں کی بارات گزر گئی جاناںدھوپ آنکھوں تک آ پہنچی ہے رات گزر گئی جاناںParveen Shakir (1952–1994)
  27. شام آئی تری یادوں کے ستارے نکلےرنگ ہی غم کے نہیں نقش بھی پیارے نکلےParveen Shakir (1952–1994)
  28. شب وہی لیکن ستارہ اور ہےاب سفر کا استعارہ اور ہےParveen Shakir (1952–1994)
  29. شوق رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیںپاؤں سے ہواؤں کے بیڑیاں نہیں کھلتیںParveen Shakir (1952–1994)
  30. عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئیاور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئیParveen Shakir (1952–1994)
  31. قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھاپر کیا کریں کہ اب کے سفر ہی عجیب تھاParveen Shakir (1952–1994)
  32. قریۂ جاں میں کوئی پھول کھلانے آئےوہ مرے دل پہ نیا زخم لگانے آئےParveen Shakir (1952–1994)
  33. قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھیپر میں کیا کرتی کہ زنجیر ترے نام کی تھیParveen Shakir (1952–1994)
  34. کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھیدل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھیParveen Shakir (1952–1994)
  35. کچھ خبر لائی تو ہے باد بہاری اس کیشاید اس راہ سے گزرے گی سواری اس کیParveen Shakir (1952–1994)
  36. کچھ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیےپانی کو اب تو سر سے گزر جانا چاہیےParveen Shakir (1952–1994)
  37. کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گیمیں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گیParveen Shakir (1952–1994)
  38. کو بہ کو پھیل گئی بات شناسائی کیاس نے خوشبو کی طرح میری پذیرائی کیParveen Shakir (1952–1994)
  39. کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہےوہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہےParveen Shakir (1952–1994)
  40. کھلے گی اس نظر پہ چشم تر آہستہ آہستہکیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہParveen Shakir (1952–1994)
  41. کیا کرے میری مسیحائی بھی کرنے والازخم ہی یہ مجھے لگتا نہیں بھرنے والاParveen Shakir (1952–1994)
  42. گلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں ستارہ ہوکوئی وجود محبت کا استعارہ ہوParveen Shakir (1952–1994)
  43. گواہی کیسے ٹوٹتی معاملہ خدا کا تھامرا اور اس کا رابطہ تو ہاتھ اور دعا کا تھاParveen Shakir (1952–1994)
  44. گونگے لبوں پہ حرف تمنا کیا مجھےکس کور چشم شب میں ستارا کیا مجھےParveen Shakir (1952–1994)
  45. گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرحدل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرحParveen Shakir (1952–1994)
  46. مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گےلفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گےParveen Shakir (1952–1994)
  47. مشکل ہے کہ اب شہر میں نکلے کوئی گھر سےدستار پہ بات آ گئی ہوتی ہوئی سر سےParveen Shakir (1952–1994)
  48. میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیاساتھ میرے روشنی بن کر سفر اس نے کیاParveen Shakir (1952–1994)
  49. نم ہیں پلکیں تری اے موج ہوا رات کے ساتھکیا تجھے بھی کوئی یاد آتا ہے برسات کے ساتھParveen Shakir (1952–1994)
  50. وقت رخصت آ گیا دل پھر بھی گھبرایا نہیںاس کو ہم کیا کھوئیں گے جس کو کبھی پایا نہیںParveen Shakir (1952–1994)