Poetry

Poet
Meter
  1. صنم پاس ہے اور شب ماہ ہےیہ شب ہے کہ اللہ ہی اللہ ہےMir Hasan (1727–1786)
  2. عرق کو دیکھ منہ پر تیرے پیارےفلک کو پیٹھ دے بیٹھے ہیں تارےMir Hasan (1727–1786)
  3. غیر کو تم نہ آنکھ بھر دیکھوکیا غضب کرتے ہو ادھر دیکھوMir Hasan (1727–1786)
  4. فائدہ آنے سے ایسے آ کے پچھتائیں ہیں ہماٹھ گئے جب یاں کے گزرے آہ تب آئیں ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
  5. کسی موسم کی وہ باتیں جو تیری یاد کرتا ہوںانہیں باتوں کو پھر پھر کہہ دل اپنا شاد کرتا ہوںMir Hasan (1727–1786)
  6. کل جو تم ایدھر سے گزرے ہم نظر کر رہ گئےجی میں تھا کچھ کہیے لیکن آہ ڈر کر رہ گئےMir Hasan (1727–1786)
  7. کون کرتا ہے سر زلف کی باتیں دل میںجی پہ کٹتی ہیں عجب طرح کی راتیں دل میںMir Hasan (1727–1786)
  8. کوئی نہیں کہ یار کی لاوے خبر مجھےاے سیل اشک تو ہی بہا دے ادھر مجھےMir Hasan (1727–1786)
  9. کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریںوگر لگاویں تو مشکل کہ بے حواس پھریںMir Hasan (1727–1786)
  10. کیا کہیں پوچھ مت کہیں ہیں ہمتو جہاں ہے غرض وہیں ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
  11. کیوں رنگ سرخ تیرا اب زرد ہو گیا ہےتو ہی مگر ہمارا ہمدرد ہو گیا ہےMir Hasan (1727–1786)
  12. کیوں کر بھلا لگے نہ وہ دل دار دور سےدونی بہار دیوے ہے گلزار دور سےMir Hasan (1727–1786)
  13. گل ہے زخمی بہار کے ہاتھوںدل ہے صد چاک یار کے ہاتھوںMir Hasan (1727–1786)
  14. مجنوں کو اپنی لیلیٰ کا محمل عزیز ہےتو دل میں ہے ہمارے ہمیں دل عزیز ہےMir Hasan (1727–1786)
  15. مجھ کو عاشق کہہ کے اس کے روبرو مت کیجیودوستاں گر دوست ہو تو یہ کبھو مت کیجیوMir Hasan (1727–1786)
  16. محبت میں تری جب مجھ کو عالم نے ملامت کیدل و جاں نے تب آپس میں مبارک اور سلامت کیMir Hasan (1727–1786)
  17. مزا بے ہوشیٔ الفت کا ہوشیاروں سے مت پوچھوعزیزاں خواب کی لذت کو بے داروں سے مت پوچھوMir Hasan (1727–1786)
  18. مل گئے اپنے یار سے اب کیحظ اٹھایا بہار سے اب کیMir Hasan (1727–1786)
  19. منہ اپنا خشک ہے اور چشم تر ہےترے غم میں یہ سیر بحر و بر ہےMir Hasan (1727–1786)
  20. منہ کہاں یہ کہ کہوں جائیے اور سو رہئےخوب گر نیند ہے تو آئیے اور سو رہئےMir Hasan (1727–1786)
  21. میں کہا تھا کبھی سے یہ کچھ ہےجس کا عالم ابھی سے یہ کچھ ہےMir Hasan (1727–1786)
  22. نغمہ و عشق سے ہیں سبحہ و زنار ملےایک آواز پہ دو ساز کے ہیں تار ملےMir Hasan (1727–1786)
  23. نگہ سے چشم سے ناز و ادا سےخدا محفوظ رکھے ہر بلا سےMir Hasan (1727–1786)
  24. نوجوانی کی دید کر لیجےاپنے موسم کی عید کر لیجےMir Hasan (1727–1786)
  25. نہ باغ سے غرض ہے نہ گل زار سے غرضہے بھی جو کچھ غرض تو ہمیں یار سے غرضMir Hasan (1727–1786)
  26. نہ برگ ہوں میں گل کا نہ لالے کا شجر ہوںمیں لخت دل ریش ہوں اور داغ جگر ہوںMir Hasan (1727–1786)
  27. نہ رہا گل نہ خار ہی آخراک رہا حسن یار ہی آخرMir Hasan (1727–1786)
  28. نہ ملا وہ نفاق کے مارےکیا کریں ہم وفاق کے مارےMir Hasan (1727–1786)
  29. نہ ہم دعا سے اب نہ وفا سے طلب کریںعشق بتاں میں صبر خدا سے طلب کریںMir Hasan (1727–1786)
  30. وصل بھی ہوگا حسنؔ تو ٹک تو استقلال کرحال اپنا ہم سے کہہ کہہ ہم کو مت بے حال کرMir Hasan (1727–1786)
  31. وصل کا عیش کہاں پر غم ہجراں تو ہےلب خنداں تو نہیں دیدۂ گریاں تو ہےMir Hasan (1727–1786)
  32. وفادار ہو یا جفا کار تم ہوجو کچھ ہو سو ہو پر مرے یار تم ہوMir Hasan (1727–1786)
  33. وہ دلبری کا اس کی جو کچھ حال ہے سو ہےاور اپنی دل دہی کا جو احوال ہے سو ہےMir Hasan (1727–1786)
  34. وہ نہیں ہم جو ڈر ہی جاویں گےدل میں جو ہے سو کر ہی جاویں گےMir Hasan (1727–1786)
  35. ہم سے تو کسی کام کی بنیاد نہ ہووےجب تک کہ ادھر ہی سے کچھ امداد نہ ہووےMir Hasan (1727–1786)
  36. ہم سے کر تو کہ یا نہ کر اخلاصہم کو ہے تجھ سے یار پر اخلاصMir Hasan (1727–1786)
  37. ہم قتل ہو گئے نہیں تجھ کو خبر ہنوزباندھے پھرے ہے ہم پہ میاں تو کمر ہنوزMir Hasan (1727–1786)
  38. ہم نہ تنہا اس گلی سے جاں کو کھو کر اٹھ گئےسیکڑوں یاں زندگی سے ہاتھ دھو کر اٹھ گئےMir Hasan (1727–1786)
  39. ہم نہ نکہت ہیں نہ گل ہیں جو مہکتے جاویںآگ کی طرح جدھر جاویں دہکتے جاویںMir Hasan (1727–1786)
  40. ہے دھیان جو اپنا کہیں اے ماہ جبیں اورجانا ہے کہیں اور تو جاتا ہوں کہیں اورMir Hasan (1727–1786)
  41. یار کا دھیان ہم نہ چھوڑیں گےاپنی یہ آن ہم نہ چھوڑیں گےMir Hasan (1727–1786)
  42. یا صبر ہو ہمیں کو اس طرف جو نہ نکلیںیا اپنے گھر سے بن بن یہ خوبرو نہ نکلیںMir Hasan (1727–1786)
  43. یاں سے پیغام جو لے کر گئے معقول گئےاس کی باتوں میں لگے ایسے کہ سب بھول گئےMir Hasan (1727–1786)
  44. یوں غیر کچھ کہیں تو بلا کو بری لگےتو کچھ نہ کہہ کہ ہم غربا کو بری لگےMir Hasan (1727–1786)
  45. بلبل کی ہزار آشنائی دیکھیاور گل کی کروڑ بے وفائی دیکھیMir Hasan (1727–1786)
  46. دل تجھ پہ مرا جو مبتلا رہتا ہےکوچے میں ترے ہمیشہ جا رہتا ہےMir Hasan (1727–1786)
  47. ظاہر بھی تو ہے اور نہاں بھی تو ہےمعنی بھی تو ہے اور بیاں بھی تو ہےMir Hasan (1727–1786)
  48. نہ مے کے نہ جام کے لئے مرتے ہیںنہ دہر میں نام کے لئے مرتے ہیںMir Hasan (1727–1786)
  49. آپ کو اس نے اب تراشا ہےقہر ہے ظلم ہے تماشا ہےMir Hasan (1727–1786)
  50. دامن کو اس کے کھینچیں اغیار سب طرف سےاور آہ ہم یہ کھینچیں آزار سب طرف سےMir Hasan (1727–1786)