Poetry
Poet
Meter
- دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑےاے عشق پر نہ کوئی تری راہ میں پڑےMir Hasan (1727–1786)
- دل کی زمیں سے کون سی بہتر زمین ہےپر جان تو بھی ہو تو عجب سر زمین ہےMir Hasan (1727–1786)
- دور سے باغ جہاں دکھلا کے دیوانہ کیامتصل جانے نہ پایا میں کہ ویرانہ کیاMir Hasan (1727–1786)
- سحر البیانMir Hasan (1727–1786)
- کہتا نہ تھا میں اے دل تو اس سے جی لگا نہاس کا تو کیا گیا اب تیرا ہی جی گیا نہMir Hasan (1727–1786)
- نظر کرو وحدت و کثرت بہم شامل ہیں شیشہ میںاگر شیشہ ہے محفل میں تو یہ محفل ہے شیشہ میںMir Hasan (1727–1786)
- نے فقہ نہ منطق نے حکمت کا رسالہ ہےاس فن محبت کا نسخہ ہی نرالا ہےMir Hasan (1727–1786)
- اڑ گئی پر سے طاقت پروازکہیں صیاد اب رہا نہ کرےJafar Ali Hasrat (1734–1792)
- تمہیں غیروں سے کب فرصت ہم اپنے غم سے کم خالیچلو بس ہو چکا ملنا نہ تم خالی نہ ہم خالیJafar Ali Hasrat (1734–1792)
- آج تو ہمدم عزم ہے یہ کچھ ہم بھی رسمی کام کریںکلک اٹھا کر یار کو اپنے نامۂ شوق ارقام کریںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- آغوش تصور میں جب میں نے اسے مسکالب ہائے مبارک سے اک شور تھا "بس بس" کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- آن رکھتا ہے عجب یار کا لڑ کر چلناہر قدم ناز کے غصے میں اکڑ کر چلناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- آیا نہیں جو کر کر اقرار ہنستے ہنستےجل دے گیا ہے شاید عیار ہنستے ہنستےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اب دیکھیں پھر ہم اے ہمدم کس روز منہ اِس کا دیکھیں گےوُہ زلف وُہ تِل وہ خال وُہ خد وُہ رنگ وُہ نقشہ دیکھیں گےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ادا کے توسن پر اس صنم کو جو آج ہم نے سوار دیکھاتو ہلتے ہی ٹک عناں کے کیا کیا کچلتے صبر و قرار دیکھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ادا و ناز میں کچھ کچھ جو ہوش اس نے سنبھالا ہےتو اپنے حسن کا کیا کیا دلوں میں شور ڈالا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ادھر اس کی نگہ کا ناز سے آ کر پلٹ جاناادھر مرنا تڑپنا غش میں آنا دم الٹ جاناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ادھر یار جب مہربانی کرے گاتو اپنا بھی جی شادمانی کرے گاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اس کے بالا ہے اب وہ کان کے بیچجس کی کھیتی ہے جھوک جان کے بیچNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اسی کا دیکھنا ہے ٹھانتا دلجو ہے تیر نگہ سے چھانتا دلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اسی کی ذات کو ہے دائماً ثبات و قیامقدیر و حی و کریم و مہیمن و منعامNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اگر ہے منظور یہ کہ ہووے ہمارے سینے کا داغ ٹھنڈاتو آ لپٹئے گلے سے اے جاں جھمک سے کر جھپ چراغ ٹھنڈاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- الطاف بیاں ہوں کب ہم سے اے جان تمہاری صورت کےہیں لاکھوں اپنی آنکھوں پر احسان تمہاری صورت کےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- انداز کچھ اور ناز و ادا اور ہی کچھ ہےجو بات ہے وہ نام خدا اور ہی کچھ ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- انکار ہم سے غیر سے اقرار بس جی بسدیکھے تمہارے ہم نے یہ اطوار بس جی بسNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اولاً اس بے نشاں اور با نشاں کو عشق ہےبعد ازاں سر حلقۂ پیغمبراں کو عشق ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ایام شباب اپنے بھی کیا عیش اثر تھےکہتے ہیں جنہیں عیب وہ اس وقت ہنر تھےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اے دل اپنی تو چاہ پر مت پھولدلبروں کی نگاہ پر مت پھولNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اے مری جان ہمیشہ ہو تری جان کی خیرنازکی دور بلا، حسن کے سامان کی خیرNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بتوں کی کاکلوں کے دیکھ کر پیچپڑے ہیں دل پہ کیا کیا پیچ پر پیچNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بتوں کی مجلس میں شب کو مہ رو جو اور ٹک بھی قیام کرتاکنشت ویراں صنم کو بندہ برہمنوں کو غلام کرتاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بحر ہستی میں صحبت احبابیوں ہے جیسے بروئے آب حبابNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بزم طرب وقت عیش ساقی و نقل و شرابکوئی اسے کچھ کہو ہم تو سمجھتے ہیں خوابNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بگولے اٹھ چلے تھے اور نہ تھی کچھ دیر آندھی میںکہ ہم سے یار سے آ ہو گئی مڈبھیڑ آندھی میںNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بنا ہے اپنے عالم میں وہ کچھ عالم جوانی کاکہ عمر خضر سے بہتر ہے ایک اک دم جوانی کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بھرے ہیں اس پری میں اب تو یارو سر بسر موتیگلے میں کان میں نتھ میں جدھر دیکھو ادھر موتیNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بیٹھو یاں بھی کوئی پل کیا ہوگاہم بھی عاشق ہیں خلل کیا ہوگاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بیٹھے ہیں اب تو ہم بھی بولو گے تم نہ جب تکدیکھیں تو آپ ہم سے ناخوش رہیں گے کب تکNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بے جا ہے رہ عشق میں اے دل گلۂ پایہ اور ہی منزل ہے نہیں مرحلۂ پاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- پایا مزا یہ ہم نے اپنی نگہ لڑی کاجو دیکھنا پڑا ہے غصہ گھڑی گھڑی کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- پردہ اٹھا کر رخ کو عیاں اس شُوخ نے جس ہنگام کیاہم تُو رہے مشغول ادھر یاں عشق نے دِل کا کام کیاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- پھر اس طرف وہ پری رو جھمکتا آتا ہےبرنگ مہر عجب کچھ چمکتا آتا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تجھے کچھ بھی خدا کا ترس ہے اے سنگ دل ترساہمارا دل بہت ترسا ارے ترسا نہ اب ترساNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تدبیر ہمارے ملنے کی جس وقت کوئی ٹھہراؤ گے تمہم اور چھپیں گے یہاں تک جی جو خوب ہی پھر گھبراؤگے تمNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تری قدرت کی قدرت کون پا سکتا ہے کیا قدرتترے آگے کوئی قادر کہا سکتا ہے کیا قدرتNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ترے مریض کو اے جاں شفا سے کیا مطلبوہ خوش ہے درد میں اس کو دوا سے کیا مطلبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تمہارے ہاتھ سے کل ہم بھی رو لیے صاحبجگر کے داغ جو دھونے تھے دھو لیے صاحبNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تن پر اس کے سیم فدا اور منہ پر مہ دیوانہ ہےسر سے لے کر پاؤں تلک اک موتی کا سا دانہ ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تو ہی نہ سنے جب دل ناشاد کی فریادپھر کس سے کریں ہم تری بیداد کی فریادNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تھی چھوٹی اس کے مکھڑے پر کل زلف مسلسل اور طرحپھر دیکھا آج تو اس گل کے تھے کاکل کے بل اور طرحNazeer Akbarabadi (1735–1830)