Poetry

Poet
Meter
  1. کیا لڑکے دلی کے ہیں عیار اور نٹ کھٹدل لیں ہیں یوں کہ ہرگز ہوتی نہیں ہے آہٹMir Taqi Mir (1723–1810)
  2. گل ہو مہتاب ہو آئینہ ہو خورشید ہو میراپنا محبوب وہی ہے جو ادا رکھتا ہوMir Taqi Mir (1723–1810)
  3. میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہوآدمی ہونا تو مشکل ہے میاںMir Taqi Mir (1723–1810)
  4. میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئیسر پر مرے کھڑی ہو شب شمع زور رویMir Taqi Mir (1723–1810)
  5. وصل میں رنگ اڑ گیا میراکیا جدائی کو منہ دکھاؤں گاMir Taqi Mir (1723–1810)
  6. ہم جانتے تو عشق نہ کرتے کسو کے ساتھلے جاتے دل کو خاک میں اس آرزو کے ساتھMir Taqi Mir (1723–1810)
  7. ہوگا کسی دیوار کے سائے میں پڑا میرؔکیا ربط محبت سے اس آرام طلب کوMir Taqi Mir (1723–1810)
  8. یہی جانا کہ کچھ نہ جانا ہائےسو بھی اک عمر میں ہوا معلومMir Taqi Mir (1723–1810)
  9. آج دل بیقرار ہے کیا ہےدرد ہے انتظار ہے کیا ہےMir Hasan (1727–1786)
  10. آن کر غم کدۂ دہر میں جو بیٹھے ہمشمع ساں اپنے تئیں آپ ہی رو بیٹھے ہمMir Hasan (1727–1786)
  11. آنکھوں سے خون اپنے یہ کہتا نہیں نہ جائےپر ساتھ اس کے لپٹا ہوا دل کہیں نہ جائےMir Hasan (1727–1786)
  12. آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کےنظروں سے گر گئے ہیں ہم کس کےMir Hasan (1727–1786)
  13. آہوں سے مرے گھر میں ہوا گرم رہے گیمیں جاؤں گا تو بھی مری جا گرم رہے گیMir Hasan (1727–1786)
  14. اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگےاب تو پانی ہی بھرا رہتا ہے گھر کے آگےMir Hasan (1727–1786)
  15. اس دل میں اپنی جان کبھی ہے کبھی نہیںآباد یہ مکان کبھی ہے کبھی نہیںMir Hasan (1727–1786)
  16. اس ڈر سے میں نے زلف کی اس کی نہ بات کیجاتی ہے دور دور تک آواز رات کیMir Hasan (1727–1786)
  17. اس کی جب بزم سے ہم ہو کے بتنگ آتے ہیںاپنے ساتھ آپ ہی کرتے ہوے جنگ آتے ہیںMir Hasan (1727–1786)
  18. اس کے کوچے سے صبا گر ادھر آ جاتی ہےدل کے نالوں کی مفصل خبر آ جاتی ہےMir Hasan (1727–1786)
  19. اے گرد باد طرف چمن ٹک گزار کربلبل کے پر پڑے ہیں گلوں پر نثار کرMir Hasan (1727–1786)
  20. بس دل کا غبار دھو چکے ہمرونا تھا جو کچھ سو رو چکے ہمMir Hasan (1727–1786)
  21. بس کہ چوں بدر زمانہ یہ گھٹاتا ہے مجھےدن بدن اور ہی عالم نظر آتا ہے مجھےMir Hasan (1727–1786)
  22. بس گیا جب سے یار آنکھوں میںتب سے پھولی بہار آنکھوں میںMir Hasan (1727–1786)
  23. تیر پر تیر لگے تو بھی نہ پیکاں نکلےیا رب اس گھر میں جو آوے نہ وہ مہماں نکلےMir Hasan (1727–1786)
  24. تیری مدد سے تیرا ادراک ہو سکے ہےورنہ اس آدمی سے کیا خاک ہو سکے ہےMir Hasan (1727–1786)
  25. ٹک دیکھ لیں چمن کو چلو لالہ زار تککیا جانے پھر جئیں نہ جئیں ہم بہار تکMir Hasan (1727–1786)
  26. جان میں جان تبھی قیس کے بس آتی ہےناقۂ لیلیٰ کی جب بنگ جرس آتی ہےMir Hasan (1727–1786)
  27. جان و دل ہیں اداس سے میرےاٹھ گیا کون پاس سے میرےMir Hasan (1727–1786)
  28. جب تلک تیر ترا آوے ہے نخچیر تلکلے یہ نخچیر ہی آ پہنچا ترے تیر تلکMir Hasan (1727–1786)
  29. جس شخص کی ہو زیست فقط نام سے تیرےاس شخص کا کیا حال ہو پیغام سے تیرےMir Hasan (1727–1786)
  30. جگر سوختہ ہیں اور دل بریاں ہیں ہمشعلہ کی طرح سدا دیدۂ گریاں ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
  31. جلد حسن و جمال جاتا ہےنہیں رہتا یہ حال جاتا ہےMir Hasan (1727–1786)
  32. چشم تر رات مجھ کو یاد آئیاپنی اوقات مجھ کو یاد آئیMir Hasan (1727–1786)
  33. چل دل اس کی گلی میں رو آویںکچھ تو دل کا غبار دھو آویںMir Hasan (1727–1786)
  34. خواہ سچ جان مری بات کو تو خواہ کہ جھوٹسچ کہوں سچ کو اگر تیرے تو واللہ کہ جھوٹMir Hasan (1727–1786)
  35. دل بچھڑ کر جو چلا اس بت مغرور تلکدیکھتا میں بھی گیا اس کے تئیں دور تلکMir Hasan (1727–1786)
  36. دل بر سے ہم اپنے جب ملیں گےاس گم شدہ دل سے تب ملیں گےMir Hasan (1727–1786)
  37. دل خدا جانے کس کے پاس رہاان دنوں جی بہت اداس رہاMir Hasan (1727–1786)
  38. دل دار دل اس طرح بہم آئے نظر میںجس طرح گہر آب میں اور آب گہر میںMir Hasan (1727–1786)
  39. دل غم سے ترے لگا گئے ہمکس آگ سے گھر جلا گئے ہمMir Hasan (1727–1786)
  40. دل کو اس شوخ کے کوچہ میں دھرے آتے ہیںشیشہ خالی کیے اور اشک بھرے آتے ہیںMir Hasan (1727–1786)
  41. دل مرا آج میرے پاس نہیںمجھ میں کچھ ہوش اور حواس نہیںMir Hasan (1727–1786)
  42. دید کی سد راہ ہے یہ مژہخار پائے نگاہ ہے یہ مژہMir Hasan (1727–1786)
  43. دیکھ دروازے سے مجھ کو وہ پری رو ہٹ گئیدیکھتے ہی اس کے میری جان بس چٹ پٹ گئیMir Hasan (1727–1786)
  44. رکھتا ہے صلح سب سے دل اس کا پہ مجھ سے جنگغیروں کے حق میں موم ہے اور میرے حق میں سنگMir Hasan (1727–1786)
  45. سب کو ہے منظور اس رخسار گل گوں کی طرفدیکھتا ہے کون میری چشم پر خوں کی طرفMir Hasan (1727–1786)
  46. سب نقش اس فلک کے نگینے پہ آ رہےکار جہاں تمام کمینے پہ آ رہےMir Hasan (1727–1786)
  47. سوز دل کا ذکر اپنے منہ پہ جب لاتے ہیں ہمشمع ساں اپنی زباں سے آپ جل جاتے ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)
  48. سو کی اک بات میں کہی تو ہےیعنی جو کچھ کہ ہے وہی تو ہےMir Hasan (1727–1786)
  49. شب کو تم ہم سے خفا ہو کر سحر کو اٹھ گئےشمع ساں رو رو کے ہم بھی دل جگر کو اٹھ گئےMir Hasan (1727–1786)
  50. شمع ساں شب کے میہماں ہیں ہمصبح ہوتے تو پھر کہاں ہیں ہمMir Hasan (1727–1786)