حسن حجاب آشنا جانب بام آ گیا

Kaifi Chirayyakoti (1890–1956)

حسن حجاب آشنا جانب بام آ گیا

بادۂ تہ نشین جام تا لب جام آ گیا

آپ نے پھینک دی نقاب گرمئ عشق دیکھ کر

حشر نواز حسن آج حشر کے کام آ گیا

ملت کفر و دیں کی بحث گرم تھی خانقاہ میں

اتنے میں کوئی مے پئے دست بہ جام آ گیا

شوق کا اعتبار کیا یاس یہ اختیار کیا

راہ امید و بیم میں دل کا مقام آ گیا

دل مرا دیکھتا رہا اور میری زبان پر

لذت جان آرزو آپ کا نام آ گیا

دہر جوان ہو گیا کھل گیا میکدے کا در

ساقیٔ مست مست ناز مست خرام آ گیا

جلوۂ بے حجاب کو خوب سمجھ رہا ہوں میں

محشر دید منتظر منظر عام آ گیا

کیفیؔٔ بے قرار سن یہ رگ جاں کے ساز سے

ہے مری التجا قبول دل کا پیام آ گیا