گو یوم بدر معرکۂ کار زار تھا
Kaifi Chirayyakoti (1890–1956)گو یوم بدر معرکۂ کار زار تھا
اس شکل میں وہ آیت پروردگار تھا
کہتے ہیں ایک شخص اسیران بدر سے
رشتے میں خویش سید والا تبار تھا
وہ کون زوج زینب بنت رسول کا
بو العاص وہ جو صاحب عز و وقار تھا
تھا حکم عام جو زر فدیہ کے واسطے
داخل ہر ایک اس میں صغار و کبار تھا
مکے میں یہ خبر جو گئی گونجتی ہوئی
چھوٹا ادائے فدیہ سے جو مال دار تھا
داماد تاجدار مدینہ اسیر غم
اپنے ادائے فدیہ سے بے اختیار تھا
زینب کو دی خبر یہ جناب رسول نے
فدیے کا حکم خاص مگر بار بار تھا
جس دم سنا یہ حضرت زینب نے ماجرا
فدیہ دیا وہ اپنے گلے کا جو ہار تھا
لایا گیا وہ ہار حضور رسول میں
دیکھا جو اس کو آپ کا دل بے قرار تھا
وہ ہار کیا تھا باغ محبت کا داغ تھا
یا آتش فراق کا تازہ شرار تھا
وہ ہار تھا کہ ہار کی صورت میں جلوہ گر
داغ غم خدیجۂ الفت شعار تھا
بھڑکائی اس نے آتش فرقت دبی ہوئی
یعنی غم فراق کی وہ یادگار تھا
وہ عقد یعنی شان محبت کا زندہ دار
آزادیٔ اسیر کا بھی چارہ کار تھا
کیفیؔ یہی وہ جرأت اخلاص خاص تھی
جس سے کہ قصر دین مبیں استوار تھا