Poetry
Poet
Meter
- قحط بنگالJigar Moradabadi (1890–1960)
- پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کرپھر اسی خاک سے فردوس بریں پیدا کرJigar Moradabadi (1890–1960)
- شکست توبہJigar Moradabadi (1890–1960)
- کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گلمیرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھیہماری ابتدا تا انتہا یوں بھی ہے اور یوں بھیJigar Moradabadi (1890–1960)
- تصویر و تصورJigar Moradabadi (1890–1960)
- گاندھیؔ جی کی یاد میں!Jigar Moradabadi (1890–1960)
- یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکےکہ غنچے کھل تو سکے کھل کے مسکرا نہ سکےJigar Moradabadi (1890–1960)
- آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیےگلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیےJigar Moradabadi (1890–1960)
- آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہےجب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محالانتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کاکیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
- اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیاکیا اسیری ہے کیا رہائی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہےمسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکنزباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسویہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- درد و غم دل کی طبیعت بن گئےاب یہاں آرام ہی آرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
- دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہوبندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہوJigar Moradabadi (1890–1960)
- دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے ہمیںکتنی ظالم ہے تیری انگڑائیJigar Moradabadi (1890–1960)
- عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزاہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
- کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جامآج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
- کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظمیں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھاJigar Moradabadi (1890–1960)
- موت کیا ایک لفظ بے معنیجس کو مارا حیات نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہائے رے مجبوریاں محرومیاں ناکامیاںعشق آخر عشق ہے تم کیا کرو ہم کیا کریںJigar Moradabadi (1890–1960)
- ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکامسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
- جو درد جگر میں کمی ہو تو جانوںقیامت اگر ملتوی ہو تو جانوںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- دل مٹ گیا تو خیر ضرورت نہیں رہیحسرت یہ رہ گئی ہے کہ حسرت نہیں رہیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- زندگی اپنی کامیاب نہیںغم دوراں کا کچھ حساب نہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- کون کہتا ہے غم مصیبت ہےیہ بھی مولا کی خاص رحمت ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- کوئی اس ظالم کو سمجھاتا نہیںوہ ستم کرنے سے باز آتا نہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- کیوں یہ کہتے ہو کیا نہیں معلومکیا مرا مدعا نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- کئے قرار مگر بے قرار ہی رکھاہمیں تو آپ نے امیدوار ہی رکھاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- لٹ گیا دل کہاں نہیں معلومکیا ہوا ہے زیاں نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- لگتا نہیں کہیں بھی مرا دل ترے بغیردونوں جہاں نہیں مرے قابل ترے بغیرNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- مانگنا کام مجھ سوالی کابخشنا تیری ذات عالی کاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- مرے مٹنے پہ گر تو بھی مٹا ہوتا تو کیا ہوتاتجھے بھی صبر اے دل آ گیا ہوتا تو کیا ہوتاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- وہ کبھی مائل وفا نہ ہوامیرا چاہا ہوا برا نہ ہواNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- ہم ان کے غم میں تڑپ رہے ہیں جو غیر سے دل لگا چکے ہیںہمارے دل میں ہے یاد ان کی جو ہم کو دل سے بھلا چکے ہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- ہم دل فدا کریں کہ تصدق جگر کریںجو بھی کہیں حضور وہی عمر بھر کریںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- انسان کے دل کو ہی کوئی ساز نہیں ہےکس پردہ میں ورنہ تری آواز نہیں ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- بعد مرنے کے بھی ارمان یہی ہے اے دوستروح میری ترے آغوش محبت میں رہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- بھرے رہتے ہیں اشک آنکھوں میں ہر دممری ہر سانس میں اب غم کی بو ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- پتھروں پہ نام لکھتا ہوں ترادیکھ تو او بت مری دیوانگیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- پھول کھلتے ہی تتلی بھی آئیکیا کوئی دوستی پرانی ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- تجھے دیکھا ترے جلووں کو دیکھاخدا کو دیکھ کر اب کیا کروں گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- جو بھی دے دے وہ کرم سے وہی لے لے نادرؔمنہ سے مانگو تو خدا اور خفا ہوتا ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- رحمت حق کو نہ کر مایوس اپنے فعل سےوہ بھلائی میں نہیں جو ہے برائی میں مزاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- کسی سے پھر میں کیا امید رکھوںمری امید تو یا رب تو ہی ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- مطلب کا زمانہ ہے نادرؔ کوئی کیا دے گامجھ سوختۂ قسمت کو دے گا تو خدا دے گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
- ننگ ہے راز محبت کا نمایاں ہونامر بھی جاؤں میں اگر تم نہ پریشاں ہوناNadir Shahjahanpuri (1890–1963)