Arooz is now on the App Store, for iPhone and iPad. Download

Poetry

Poet
Meter
  1. قحط بنگالJigar Moradabadi (1890–1960)
  2. پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کرپھر اسی خاک سے فردوس بریں پیدا کرJigar Moradabadi (1890–1960)
  3. شکست توبہJigar Moradabadi (1890–1960)
  4. کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گلمیرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  5. وہ کافر آشنا نا آشنا یوں بھی ہے اور یوں بھیہماری ابتدا تا انتہا یوں بھی ہے اور یوں بھیJigar Moradabadi (1890–1960)
  6. تصویر و تصورJigar Moradabadi (1890–1960)
  7. گاندھیؔ جی کی یاد میں!Jigar Moradabadi (1890–1960)
  8. یہ دن بہار کے اب کے بھی راس آ نہ سکےکہ غنچے کھل تو سکے کھل کے مسکرا نہ سکےJigar Moradabadi (1890–1960)
  9. آباد اگر نہ دل ہو تو برباد کیجیےگلشن نہ بن سکے تو بیاباں بنائیےJigar Moradabadi (1890–1960)
  10. آغاز محبت کا انجام بس اتنا ہےجب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  11. ابتدا وہ تھی کہ جینا تھا محبت میں محالانتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہو گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  12. اتنے حجابوں پر تو یہ عالم ہے حسن کاکیا حال ہو جو دیکھ لیں پردہ اٹھا کے ہمJigar Moradabadi (1890–1960)
  13. اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیاکیا اسیری ہے کیا رہائی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  14. ایک ایسا بھی وقت ہوتا ہےمسکراہٹ بھی آہ ہوتی ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  15. ترے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکنزباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  16. حسیں تیری آنکھیں حسیں تیرے آنسویہیں ڈوب جانے کو جی چاہتا ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  17. درد و غم دل کی طبیعت بن گئےاب یہاں آرام ہی آرام ہےJigar Moradabadi (1890–1960)
  18. دل ہے قدموں پر کسی کے سر جھکا ہو یا نہ ہوبندگی تو اپنی فطرت ہے خدا ہو یا نہ ہوJigar Moradabadi (1890–1960)
  19. دونوں ہاتھوں سے لوٹتی ہے ہمیںکتنی ظالم ہے تیری انگڑائیJigar Moradabadi (1890–1960)
  20. عادت کے بعد درد بھی دینے لگا مزاہنس ہنس کے آہ آہ کئے جا رہا ہوں میںJigar Moradabadi (1890–1960)
  21. کبھی ان مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جامآج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیںJigar Moradabadi (1890–1960)
  22. کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظمیں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھاJigar Moradabadi (1890–1960)
  23. موت کیا ایک لفظ بے معنیجس کو مارا حیات نے ماراJigar Moradabadi (1890–1960)
  24. ہائے رے مجبوریاں محرومیاں ناکامیاںعشق آخر عشق ہے تم کیا کرو ہم کیا کریںJigar Moradabadi (1890–1960)
  25. ہم نے سینے سے لگایا دل نہ اپنا بن سکامسکرا کر تم نے دیکھا دل تمہارا ہو گیاJigar Moradabadi (1890–1960)
  26. جو درد جگر میں کمی ہو تو جانوںقیامت اگر ملتوی ہو تو جانوںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  27. دل مٹ گیا تو خیر ضرورت نہیں رہیحسرت یہ رہ گئی ہے کہ حسرت نہیں رہیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  28. زندگی اپنی کامیاب نہیںغم دوراں کا کچھ حساب نہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  29. کون کہتا ہے غم مصیبت ہےیہ بھی مولا کی خاص رحمت ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  30. کوئی اس ظالم کو سمجھاتا نہیںوہ ستم کرنے سے باز آتا نہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  31. کیوں یہ کہتے ہو کیا نہیں معلومکیا مرا مدعا نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  32. کئے قرار مگر بے قرار ہی رکھاہمیں تو آپ نے امیدوار ہی رکھاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  33. لٹ گیا دل کہاں نہیں معلومکیا ہوا ہے زیاں نہیں معلومNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  34. لگتا نہیں کہیں بھی مرا دل ترے بغیردونوں جہاں نہیں مرے قابل ترے بغیرNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  35. مانگنا کام مجھ سوالی کابخشنا تیری ذات عالی کاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  36. مرے مٹنے پہ گر تو بھی مٹا ہوتا تو کیا ہوتاتجھے بھی صبر اے دل آ گیا ہوتا تو کیا ہوتاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  37. وہ کبھی مائل وفا نہ ہوامیرا چاہا ہوا برا نہ ہواNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  38. ہم ان کے غم میں تڑپ رہے ہیں جو غیر سے دل لگا چکے ہیںہمارے دل میں ہے یاد ان کی جو ہم کو دل سے بھلا چکے ہیںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  39. ہم دل فدا کریں کہ تصدق جگر کریںجو بھی کہیں حضور وہی عمر بھر کریںNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  40. انسان کے دل کو ہی کوئی ساز نہیں ہےکس پردہ میں ورنہ تری آواز نہیں ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  41. بعد مرنے کے بھی ارمان یہی ہے اے دوستروح میری ترے آغوش محبت میں رہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  42. بھرے رہتے ہیں اشک آنکھوں میں ہر دممری ہر سانس میں اب غم کی بو ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  43. پتھروں پہ نام لکھتا ہوں ترادیکھ تو او بت مری دیوانگیNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  44. پھول کھلتے ہی تتلی بھی آئیکیا کوئی دوستی پرانی ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  45. تجھے دیکھا ترے جلووں کو دیکھاخدا کو دیکھ کر اب کیا کروں گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  46. جو بھی دے دے وہ کرم سے وہی لے لے نادرؔمنہ سے مانگو تو خدا اور خفا ہوتا ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  47. رحمت حق کو نہ کر مایوس اپنے فعل سےوہ بھلائی میں نہیں جو ہے برائی میں مزاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  48. کسی سے پھر میں کیا امید رکھوںمری امید تو یا رب تو ہی ہےNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  49. مطلب کا زمانہ ہے نادرؔ کوئی کیا دے گامجھ سوختۂ قسمت کو دے گا تو خدا دے گاNadir Shahjahanpuri (1890–1963)
  50. ننگ ہے راز محبت کا نمایاں ہونامر بھی جاؤں میں اگر تم نہ پریشاں ہوناNadir Shahjahanpuri (1890–1963)